واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کی عبوری حکومت امریکا کو 30 سے 50 ملین بیرل تک تیل فراہم کرے گی، جس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم صدر کے مطابق امریکی حکومت کے کنٹرول میں ہوگی۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ یہ رقم امریکا اور وینزویلا کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
امریکی صدر کے اس اعلان کو اس بات کا واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کہ وینزویلا کی عبوری حکومت امریکی دباؤ کے تحت اپنی تیل کی صنعت امریکی کمپنیوں کے لیے کھولنے پر آمادہ ہو رہی ہے۔
ٹرمپ پہلے ہی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ امریکا اور نجی امریکی کمپنیوں کو وینزویلا کے تیل کے شعبے تک مکمل رسائی دی جائے۔
رپورٹس کے مطابق وینزویلا کے پاس کروڑوں بیرل تیل ٹینکروں اور ذخیرہ گاہوں میں موجود ہے، جو دسمبر کے وسط سے عائد امریکی پابندیوں کے باعث برآمد نہیں ہو سکا۔ یہ پابندیاں اس دباؤ کا حصہ تھیں جو بالآخر امریکی فوجی کارروائی اور سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر منتج ہوئیں۔
ٹرمپ کے مطابق یہ تیل مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جائے گا اور امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اس معاہدے پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہوں گے۔
اطلاعات ہیں کہ ابتدائی طور پر یہ تیل ان کارگو جہازوں سے امریکا منتقل کیا جائے گا جو پہلے چین کے لیے مختص تھے۔
اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں امریکی خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا سے تیل کی سپلائی بڑھنے سے امریکی ریفائنریز کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔