اسلام آباد میں درخت کیوں کاٹے گئے؟ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں بتا دیا

درختوں کی بےدریغ کٹائی سےمتعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا،وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیا


ویب ڈیسک January 13, 2026

قومی اسمبلی اجلاس میں اسلام آباد میں درختوں کی بے دریغ کٹائی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا،  وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ  درخت تین وجوہات کی وجہ سے کاٹے گئے ہیں۔ اسلام آباد ماسٹر پلان میں کہیں گرین اور کہیں براؤن تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکٹرز ڈیویلپ نہ ہونے تک ان جگہوں کو گرین سمجھتے رہے، ایمبیسی روڈ کی مثال ہمارے سامنے ہیں، ایمبیسی روڈ پر درخت کاٹ کر سڑک نہیں بنائی گئی بلکہ وہ روڈ سڑک کی تھی، ان درختوں کی جگہ پر ان سے کئی گنا زیادہ درخت لگائے گئے، اسلام آباد کے پراجیکٹ پر صحافیوں کو بریفنگ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی درخت ہٹایا گیا تو چار گنا درخت لگائے گیے، انتیس ہزار دو سو پندرہ درخت کاٹے گئے،  چالیس ہزار سے زائد درخت لگائے گئے، مارچ میں ان ہی جگہوں پر ساٹھ ہزار درخت لگائے جائیں گے، اسلام آباد میں گرین ایریا بڑھا ہے کم نہیں ہوا، یہ کسی ایک افسر کا فیصلہ نہیں بلکہ حکومت کا فیصلہ ہے، چیئرمین سی ڈی اے پر تنقید کی بجائے تعریف ہونی چاہیے۔

رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں، کوئی اور نہیں پولیس والے ڈکیتیاں کر رہے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانچ ایسے پوائنٹ تھے جس میں این سی سی آئی اے نے انٹیلی جنس ایجنسی کا نام لے کر چھاپہ مارا، وہاں سے لیپ ٹاپ سمیت ساری اشیاء اٹھا کر لے گئے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ اسلام آباد میں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں، ایک ڈکیٹی کا میں نے وزیر صاحب کو بتایا،  ڈکیتی پولیس والے کر رہیں، تھانے دار نے دو کروڑ روپے واپس کیے، نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے اسلام آباد میں انٹیلیجنس ایجنسی کا نام استعمال کر کے چھاپا مارا۔

سیکٹر آئی نائن میں چھاپا مار کر لوگوں کو گرفتار کیا، سارا فرنیچر اور سامان چوری کر کے لے گئے، یہ ڈاکو ہیں یا افسران ہیں ، اسلام آباد میں 41 جگہوں پر ناکے ہیں لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

شیر افضل مروت کی تقریر پر طلال چوہدری نے کہا کہ مروت صاحب میرے نوٹس میں لائے،  پولیس افسران گرفتار ہوئے اور چارج شیٹ ہوئے، اس طرح کے کسی بھی معاملے پر زیرو ٹالرنس ہے، این سی سی آئی کے افسران معطل ہیں اور تحقیقات ہو رہی ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ انہی محکموں کے لوگ اچھے کام بھی کر رہے ہیں، یہاں کال سینٹرز ہیں جو پوری دنیا میں ملک کو بدنام کر رہے ہیں، ان کال سینٹرز سے مالی فراڈ ہوتے ہیں، ان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

 

مقبول خبریں