یوم آزادی نوجوانوں کی ہلڑ بازی سے بدترین ٹریفک جام

پولیس ہوائی فائرنگ، بغیر سائلنسر موٹر سائیکل چلانے اور ون ویلنگ کرنے والوں کو صرف دیکھتی رہی


Staff Reporter August 15, 2014
بے قابو نوجوان سڑکوں پر موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں روک کر رقص کرتے رہے، یوم آزادی کا جشن منانے کیلیے گھروں سے نکلنے والے شہری شدید ذہنی کوفت کا شکار رہے۔ فوٹو: آن لائن

محکمہ داخلہ کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر عائد کی جانے والی دفعہ 144 نوٹیفکیشن کی حد تک ہی برقرار رہی۔

کراچی پولیس کے سربراہ پابندی پر عمل کرانے میں ناکام رہے،13 اگست کی رات 12 بجتے ہی شہرشدید فائرنگ سے گونج اٹھا، بغیر سائلنسر والی موٹر سائیکلوں کی اعصاب شکن آوازوں سے یوم آزادی کا جشن منانے کے لیے نکلنے والوں کے اعصاب جواب دے گئے ،سڑکوں پر کئی خوفناک حادثات ہوتے ہوتے رہ گئے،موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کی ٹولیوں نے ہلڑ بازی کر کے ٹریفک کا نظام درہم برہم کردیا۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر دفعہ 144نافذ کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ ، بغیر سائلنسر موٹر سائیکل چلانے ، ون ویلنگ اور سمندر کی جانب جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اس حوالے سے پولیس کو بھی پابند کیا گیا تھا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے ،محکمہ داخلہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی صرف نوٹیفکیشن کی حد تک ہی برقرار رہی ، پابندی کی کھلی خلاف ورزی 13 اگست کی رات سے دکھائی دی جو 14 اگست کو رات گئے تک برقرار رہی۔

کراچی پولیس کے سربراہ غلام قادر تھیبو پابندی پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہوگئے ،13 اگست کو رات 12بجتے ہی شہر میں یوم آزادی کی خوشی میں شدید فائرنگ کی گئی، گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے علاقے گونج اٹھے، آتش بازی کے دھماکوں کی آوازیں بھی دور تک سنائی دے رہی تھیں ، منچلے نوجوانوں کی بڑی تعداد پابندی کے باوجود بغیر سائلنسر والی موٹر سائیکلیں ٹولیوں کی شکل میں سڑکوں پر دوڑاتے رہے، بے قابونوجوان سڑکوں پر موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں روک کر رقص کرتے رہے۔

ان کی اعصاب شکن اور خوفناک آوازوں سے یوم آزادی کا جشن منانے کیلیے گھروں سے نکلنے والے شہریوں کے بھی اعصاب جواب دے گئے ،وہ شدید ذہنی کوفت کا شکار رہے ، منچلے نوجوان کی بڑی تعداد نے ٹولیوں کی شکل میں سی ویو کا بھی رخ کیا،سڑکوں پر نہ صرف غیر ذمے دارانہ انداز میں موٹرسائیکلیں دوڑاتے رہے بلکہ ون ویلنگ کے کرتب بھی دکھائے ، محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی کی کھلے عام سڑکوں پر خلاف ورزی ہوتی رہی، یوم آزادی کے موقع پر بھی ٹریفک پولیس کی روایتی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کے باعث اہم شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام رہا۔

ٹریفک جام پھنسے شہری بے بسی کی تصویر بنے رہے، ٹریفک پولیس کی ناقص کارکردگی نے شہریوں کی یوم آزادی کی خوشیوں کو کرکرا کر دیا ، کارساز روڈ ، شارع فیصل ، راشد منہاس روڈ ، سرشاہ سلیمان روڈ، گرومندر ، شہید ملت روڈ ، لسبیلہ چوک ، تین ہٹی چوک ، یونیورسٹی روڈ ، صفورہ چوک ، گلستان جوہر ، حسن اسکوائر ، جوہر موڑ ، گلشن اقبال ، شارع پاکستان ، شارع قائدین ، نیو ایم اے جناح روڈ ، بلوچ کالونی ، قیوم آباد ، مین کورنگی روڈ ، کلفٹن تین تلوار ، ایم اے جناح روڈ ، ڈینسو ہال ، آئی آئی چندریگر روڈ، شاہین کمپلیکس چوک، آرٹس کونسل چوک ، فوارہ چوک اور برنس روڈ سمیت دیگر علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

ٹریفک پولیس کے افسران و اہلکار اپنے فرائض سے غافل رہے، ٹریفک جام کے دوران نوجوان موٹر سائیکلیں اٹھا کر دوسرے ٹریک پر لے گئے جس کی وجہ سے اس ٹریک پر چلنے والے ٹریفک کی روانی میں بھی شدید خلل واقع ہوا ۔