سعودی عرب کی سعودی پرو لیگ کے میچ میں عالمی فٹ بال اسٹار کرسٹیانو رونالڈو دوبارہ النصر کی ٹیم کے لیے میدان میں نہیں اُترے۔ یہ اُن کا دوسرا مسلسل میچ تھا جس میں وہ اسکواڈ کا حصہ نہیں تھے کیونکہ مبینہ طور پر وہ اپنے کلب کے انتظام سے ناخوش ہیں۔
پرتگالی اور برازیلین میڈیا رپورٹس میں بھی کہا گیا ہے کہ رونالڈو النصر کی ٹرانسفر پالیسی اور سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی سے ناخوش ہیں۔
النصر نے جمعہ کو الاتحاد کے خلاف میچ کھیلا لیکن رونالڈو اس میں شامل نہیں تھے اور وہ اس سے پہلے پیر کے روز بھی الریاض کے خلاف میچ میں بھی شامل نہیں تھے۔
رپورٹس کے مطابق 38 سالہ پرتگالی اسٹار سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کی جانب سے النصر کے لیے ٹرانسفرز نہ کرنے پر ناراض ہیں جبکہ فنڈ نے الہلال جیسے حریف کلب کے لیے معروف کھلاڑی شامل کیے ہیں جن میں رونالڈو کے سابق ریئل میڈرڈ ساتھی کریم بنزما بھی شامل ہیں۔
سعودی پرو لیگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی لیگ سے بڑا نہیں ہے اور ہر کلب اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ہر ٹیم کے اپنے بورڈ، ایگزیکٹو اور فٹبال لیڈرشپ ہوتی ہے اور بھرتی، اخراجات اور حکمت عملی کے فیصلے ہر کلب خود کرتا ہے۔
رونالڈو زخمی بھی نہیں ہیں، نہ ہی ان کے کوچ خورخے جیسس کے ساتھ کوئی ذاتی اختلاف ہے اور نہ ہی وہ کلب چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، اس بات کی اطلاع ایسپلزن نے دی ہے۔ ان کے ساتھ معاہدہ جون 2025 میں دو سال کے لیے توسیع یافتہ ہوا، جس کے باوجود ان کے مستقبل کو لے کر سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
اسٹار پلیئر دوسرے میچ میں بھی غائب رہا جس کی وجہ ٹرانسفر پالیسی پر عدم اطمینان بتائی جا رہی جبکہ لیگ کا کہنا ہے کہ کھلاڑی فیصلوں سے بالا تر نہیں ہیں۔