تیل کی قیمتوں کے تعین کا ہفتہ وارانہ نظام

اس بار بھی ملک کے کئی شہروں میںنئی قیمتوں کے اطلاق سے 12گھنٹے پہلے ہی پٹرول کی عارضی قلت پیدا کر دی گئی


Editorial September 24, 2012
پیٹرول کی نئی قیمت 108 روپے 45 پیسے جب کہ مٹی کا تیل 3 روپے پانچ پیسے فی لیٹر سستا ہونے سے نئی قیمت 101 روپے 63پیسے ہو گئی ہے۔ فوٹو: فائل

حکومت نے رواں ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیسری بار ردوبدل کیا ہے۔

نئے فیصلے کے مطابق پٹرول ایک روپے73 پیسے مہنگا کیا گیا ہے جب کہ دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی ہے۔

نئی قیمتوں کا اطلاق روایت کے مطابق اتوار کی رات بارہ بجے سے ہو گیا ہے۔

پٹرول کی نئی قیمت 108 روپے 45 پیسے جب کہ مٹی کا تیل 3 روپے پانچ پیسے فی لیٹر سستا ہونے سے نئی قیمت 101 روپے 63پیسے ہو گئی ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل 74 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا ہے، اب اس کی نئی قیمت 113 روپے 30پیسے ہوگئی ہے۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 2روپے 10پیسے کمی کی گئی ہے۔ یوں یہ 97 روپے 17 فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہوگا۔

اس بار بھی ملک کے کئی شہروں میںنئی قیمتوں کے اطلاق سے 12گھنٹے پہلے ہی پٹرول کی عارضی قلت پیدا کر دی گئی۔

اب یہ کہنا تو بے معنی ہوگیا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں بار بار کے اضافے سے عام آدمی کی مالی مشکلات کئی گنا بڑھ گئی ہیں کیونکہ ارباب اختیار حقیقت سے آگاہ ہیں۔ ہفتہ وار قیمتوں کے تعین کے نئے نظام کی بدولت ہفتے کے اختتام پر پٹرول پمپس سے پٹرول غائب ہونا معمول بن گیاہے۔

اس سے کار اور موٹر سائیکل سواروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ حکومت نے 10 ستمبر کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیا تھا ، اس وقت پٹرول کی قیمت میں تھوڑی کمی کی گئی لیکن اب دو ہفتوں سے پٹرول کے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ماضی کے ریکارڈ کو سامنے رکھا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ردوبدل کے نام پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

حکومت پٹرول پر 23.78 روپے جب کہ ڈیزل پر 30روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد مختلف ٹیکس ختم کردے تو اس کے نرخوں میں کمی لائی جاسکتی ہے ۔اب جس طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں ردوبدل کے نام پر جو ایڈجسٹمنٹ کی جارہی ہے، اس سے معیشت زیادہ متاثر ہورہی ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ غیر یقینی کا شکار ہے۔

انھیں کرایوں کا تعین کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں استحکام نہیں ہے۔یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا اثر پوری معیشت پر پڑتا ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے حوالے سے یہ بات قابل غور ہے کہ ہفتہ وار نظام کی وجہ سے نقل وحمل کے مستقل نرخ طے کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔

یوں ایسا لگتا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی ہفتہ وارانہ بنیادوں پر طے ہونا شروع ہوجائیں جس سے معاشی غیر یقینی مزید بڑھے گی۔

کاروباری طبقہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اپنی مرضی کا اضافہ کردیا کرے گا ۔یہ صورتحال بہت تشویشناک ہوگی۔حکومتی مشینری جو پہلے ہی قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکام ہے ، مزید بے کار ہوجائے گی۔

معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے تیل کی قیمتوں میں استحکام رکھنا انتہائی ضروری ہے۔اس کا مناسب طریقہ تو یہی ہے کہ تیل کی قیمتوں کا تعین سالانہ بنیادوں پر کیا جائے۔ماضی میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔

اگر حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتی ہے تو اسے تیل کی قیمتوں میں استحکام لانا ہوگا اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ سالانہ بجٹ میں ہی تیل کی قیمتوں کا تعین کردیا جائے ۔ ہر ہفتے نرخوں میں ردوبدل سے بے یقینی میں اضافہ ہورہا ہے اور ملک میں جاری معاشی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔

ماضی میں تیل کی قیمتیں سالانہ بجٹ میں متعین کی جاتی تھیں۔ اس کے بعد سارا سال تیل کی قیمتوں میں استحکام رہتا تھا۔ اس کا اثر معیشت کے دوسرے شعبوں پر بھی پڑتا تھا، مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ تو ہوتا تھا لیکن اس کی رفتار خاصی سست ہوتی تھی اور عوام خاصی حد تک مطمئن رہتے تھے۔ لیکن سسٹم میں تبدیلیاں لائی گئیں ۔

پھر وہ وقت آ گیا جب ہر ماہ تیل کی قیمتوں میں ردوبدل ہونے لگا۔اس نظام نے ملکی معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کردیا۔ٹرانسپورٹ کے کرائے اور دیگر اشیاء ضروریہ کے نرخ تیزی سے بڑھنے لگے۔

اسی دوران تیل کی قیمتیں متعین کرنے کے لیے پندرہ روزہ نظام سامنے آ گیا۔معاشی بے یقینی مزید بڑھ گئی ۔ اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ ہر ہفتے تیل کی قیمتوں میں ردوبدل ہوتا ہے۔ اس صورتحال نے عام آدمی کو تو پریشان کرہی رکھا ہے ۔

اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹر بھی پریشان ہے اور مینوفیکچرز بھی۔ پاکستان کی معیشت پسماندہ اور نیم ترقی پذیر ہے۔ اس قسم کی معیشت کو ترقی دینے کے لیے افراط زر اور مہنگائی کو کنٹرول میں رکھنا بہت ضروری ہے ۔معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے سب سے اہم کام توانائی کے نرخوں کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔

توانائی کی قیمت بڑھنے نہ پائے تومعیشت کو مستحکم رکھا جاسکتا ہے۔ حکومت کے پاس ایسے ذہین لوگ موجود ہیں جنھیں معیشت کے اسرار و رموز کا بخوبی علم ہے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت صورتحال سے لاعلم ہے ۔