امریکی دباؤ کے آگے مودی کی پسپائی؟ کانگریس کے سنگین الزامات

اپوزیشن کے مطابق بھارت کا حالیہ تجارتی معاہدہ دراصل امریکا کے سامنے دباؤ میں آ کر کیے گئے فیصلوں کا نتیجہ ہے


ویب ڈیسک February 08, 2026

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپسٹین فائلز سے جڑے انکشافات کے دباؤ اور امریکا کی جانب سے عائد تجارتی پابندیوں کے باعث بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے واضح پسپائی اختیار کی ہے۔

اپوزیشن کے مطابق بھارت کا حالیہ تجارتی معاہدہ دراصل امریکا کے سامنے دباؤ میں آ کر کیے گئے فیصلوں کا نتیجہ ہے۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سستا روسی تیل خریدنے پر بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے بعد بھارتی حکومت نے روسی تیل کی خریداری میں کمی کی۔ اپوزیشن کے مطابق امریکی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ بیرونی دباؤ کے تحت کیا گیا۔

کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا یہ قدم محض وقتی نہیں بلکہ اس کے بھارتی معیشت اور سفارت کاری پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق بیرونی دباؤ پر قومی مؤقف سے انحراف ناکام خارجہ پالیسی اور واضح پسپائی کی علامت ہے۔

اپوزیشن نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی معاہدے سے متعلق اعلانات نے عالمی سطح پر بھارت کی کمزور حیثیت کو نمایاں کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت سے بھارت کے خودمختاری کے دعوؤں پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور بھارتی خارجہ پالیسی حقیقت پسندی کے بجائے گمراہ کن بیانیے اور نظریاتی دباؤ کا شکار نظر آتی ہے۔

مقبول خبریں