ابھی بلوچستان میں بارہ مقامات پر بیک وقت ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ایک درجن سے زائد پاک فوج کے جوانوں اور عام شہریوں کی شہادت کا دکھ کم نہ ہوا تھا کہ جمعہ کو اسلام آباد میں جو وطن عزیز کا دارالحکومت اور محفوظ شہر سمجھا جاتا ہے، امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے میں 30 سے زائد نمازی شہید اور دو سو کے قریب زخمی ہو گئے جن میں پندرہ سے زائد افراد کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی جاتی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق دو دہشت گردوں نے مذکورہ مسجد و امام بارگاہ میں حملہ کیا، ایک خودکش حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، دھماکے سے قبل سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں اور خودکش حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حملہ آور اگلی صفوں میں جانے کی کوشش کر رہے تھے، اہلکاروں کے روکنے پر ایک حملہ آور نے خود کو گیٹ پر ہی دھماکے سے اڑا لیا۔ اگر حملہ آور اگلی صفوں تک پہنچ جاتے اور مسجد کے وسط میں دھماکے کرتے تو شہادتوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی تھی۔امام بارگاہ پر حملے کی ذمے داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے۔
صدر، وزیر اعظم، گورنر، وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا و دیگر نے دہشت گردی کے سانحے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی اور شہدا کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے اس عزم کا ایک بار پھر اظہار کیا کہ دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے تک ان کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ہفتے کے دن بسنت کی تمام مصروفیات منسوخ کر دیں۔ اسلام آباد دھماکے کی گونج عالمی سطح پر سنی گئی، سعودی عرب، ایران، امریکا، روس، برطانیہ، چین اور دیگر ممالک نے اسلام آباد خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین سے تعزیت، زخمی افراد سے ہمدردی اور حکومت پاکستان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت نادرا کے ریکارڈ سے کر لی گئی ہے۔ اس کا تعلق پشاور سے ہے اور عمر 32 سال ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد نے افغانستان سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی اور اس حوالے سے وہ کئی بار افغانستان کا سفر بھی کر چکا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ خودکش دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے رشتے داروں تک پہنچ گئے ہیں، وفاق کا خیبر پختونخوا حکومت سے رابطہ ہے جو دہشت گردوں کے خلاف وفاق سے تعاون کر رہی ہے۔ مجلس وحدت المسلمین نے امام بارگاہ سانحہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔دہشت گردی کی تازہ لہر نے بلوچستان اور کے پی کے، کے بعد اب اپنا دائرہ وفاقی دارالحکومت تک پھیلا دیا ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارت اور افغانستان کی پشت پناہی کے ذریعے دہشت گرد عناصر ملک کے اہم شہروں میں خودکش حملوں کے ذریعے خوف و ہراس پھیلا کر ماضی جیسی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اسلام آباد خودکش حملے کی بظاہر بھارت اور افغانستان نے بھی مذمت کی ہے لیکن ایک دنیا جانتی ہے کہ بھارت طویل عرصے سے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد کرکے وہاں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
بھارت کا خصوصی جاسوس کل بھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری اور اس کے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے اعترافی بیانات اس امر کا عکاس ہیں کہ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ مئی 2025 کی جنگ میں پاکستان سے شکست کھانے کے بعد اب وہ افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے اپنی پراکسی کے ذریعے پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے کے در پے ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا برادر اسلامی ملک افغانستان جس کے ساتھ دوستی و تعاون کے دیرینہ رشتے ہیں وہ پاکستان کے خلاف بھارت نوازی میں اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی آماج گاہ بنا کر دو عملی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
پاکستان کے بار بار احتجاج کے باوجود افغانستان کی طالبان حکومت بات سننے، سمجھنے اور حالات کی نزاکت اور سنگینی کا ادراک کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ دہشت گردی کی اس نئی لہر کو ملک کے دیگر علاقوں و شہروں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو ٹھوس ثبوت کے ساتھ اقوام متحدہ و دیگر ممالک کو آگاہ کرے اور کارروائی کا مطالبہ کرے۔