بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرۂ عرب میں تیل اسمگلنگ کے ایک مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تین آئل ٹینکرز کو تحویل میں لے لیا ہے۔
بھارتی حکام کے مطابق یہ کارروائی ممبئی سے تقریباً 100 بحری میل مغرب میں کی گئی، جہاں مشتبہ جہازوں کو روک کر مزید قانونی کارروائی کے لیے ممبئی منتقل کیا جا رہا ہے۔
بھارتی کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا پیٹرن تجزیے اور نگرانی کے نظام کے ذریعے ان جہازوں کی نشاندہی کی گئی۔ بیان کے مطابق یہ نیٹ ورک بین الاقوامی پانیوں میں جہاز سے جہاز تیل کی منتقلی کے ذریعے تنازعات سے متاثرہ علاقوں کا سستا تیل دیگر ٹینکروں تک منتقل کر رہا تھا تاکہ ساحلی ممالک کو واجب الادا ٹیکس اور ڈیوٹیز سے بچا جا سکے۔
کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ تفصیلی تفتیش، الیکٹرانک ڈیٹا کی جانچ اور عملے سے پوچھ گچھ کے بعد اس نیٹ ورک کے طریقۂ کار اور عالمی سطح پر موجود روابط کا سراغ ملا۔ تاہم بھارتی حکام نے اپنے بیان میں ایران، جہازوں کی ملکیت یا کسی پابندی کی خلاف ورزی کا براہِ راست ذکر نہیں کیا۔
دوسری جانب ٹینکر ٹریکنگ فرم ٹینکر ٹریکرس اور ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ضبط کیے گئے تینوں جہاز ایران سے منسلک ہیں اور یہ امریکی پابندیوں کی زد میں آ چکے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ان جہازوں کے نام اے ایل جافزیا، اسفالٹ اسٹار اور اسٹیellar روبی ہیں، جبکہ ان میں سے ایک جہاز ایرانی پرچم کے تحت کام کر رہا تھا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ٹینکرز تیل اسمگلنگ کے الزام میں روکے گئے ہیں اور انہیں 2025 میں امریکا کی جانب سے پابندیوں کا سامنا تھا۔ بھارتی کوسٹ گارڈ کے مطابق یہ جہاز ماضی میں بار بار اپنی شناخت تبدیل کرتے رہے ہیں۔
بھارتی حکام نے اس کارروائی کو سمندری سلامتی کے حوالے سے بھارت کے کردار کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بین الاقوامی قوانین کے تحت سمندری نظام کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔ تاحال بھارتی یا ایرانی حکام کی جانب سے ایران سے تعلق کے حوالے سے باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔