وفاقی دارالحکومت میں واقع امام بارگاہ میں جمعے کے روز ہونے والے دھماکے کے وقت کی ایک اور سی سی ٹی فوٹیج سامنے آگئی جس میں حملہ آور کو امام بارگاہ میں داخل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور کو فائرنگ کرنے کے بعد بھاگ کر امام بارگاہ میں داخل ہوتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
امام بارگاہ کے اندر دھماکے کے بعد باہر شہریوں کو بھاگتے ہوئے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آرہا ہے اور امام بارگاہ کو بھی واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
2 روز قبل ترلائی کلاں خود کُش دہشت گردی کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی تھی جب کہ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مار کر حملے کا ماسٹر مائنڈ اور تین سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا تھا کہ آپریشنز ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس کے نتیجے میں کیے گئے، حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، آپریشن کے دوران وطن کا ایک بیٹا شہید اور تین زخمی ہوگئے۔
ذرائع نے کہا تھا کہ خودکش حملہ آور کا نام یاسر تھا جو کہ پشاور کا رہائشی تھا، حملہ آور نے حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، وہ ایک ہفتے پہلے بھی مسجد سے ہوکر گیا، وہ افغانستان چار مہینے رہ کر آیا، شواہد جمع کرنے کے لیے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی لی گئی۔
حملہ آور نے 4 سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا، جب کہ بال بیرنگ کی تعداد بہت زیادہ تھی، حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائیں، تمام گولیوں کو خول جائے وقوع سے مل گئے۔