وزیر سندھ برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں تنقید اور مخالفت نہ ہو تو بعض جماعتوں کی سیاست نہیں چلتی۔
تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پی اے کانفرنس کے بعد عالمی بینک کے صدر اور وفد نے مختلف شہروں کے دوروں کے بعد حکومتِ سندھ کے منصوبوں کی تعریف کی۔
انہوں نے اسلام آباد میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے بھارتی خفیہ اداروں اور طالبان کی معاونت سے معصوم اور نہتے لوگوں پر حملہ کیا۔ وہ دشمن ممالک جو پاکستان کا سامنے سے مقابلہ نہیں کر سکتے اور جنہیں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا، وہ پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ اس حملے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ دشمن کس حد تک گر سکتا ہے، جبکہ بھارتی فیک اکاؤنٹس کے ذریعے واقعے کو بنیاد بنا کر ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے تاکہ دشمن کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ہم ایک قوم بن کر متحد ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم اور جماعتِ اسلامی کراچی میں مخالفت نہ کریں تو ان کی سیاست کیسے چلے گی، جبکہ باقی شہروں میں ایسے واقعات پر یہ خاموش رہتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے، تو کیا وہاں کے لوگ انسان نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں تنقید اور مخالفت نہ ہو تو بعض جماعتوں کی سیاست نہیں چلتی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اتوار کو ہڑتال کے اعلان پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اتوار کو ویسے بھی کاروبار، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہتے ہیں، دکانیں اور دفاتر بند ہونے سے عوام کو ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر کسی کو خوش کرنا ہے تو کرتے رہیں۔