راولپنڈی کے انڈسٹریل اسٹیٹ روات میں کپڑے و پولیسٹر کی رضائیاں بنانے والی فیکٹری و گودام میں لگنے والی آگ شدت اختیار کرنے کے بعد بے قابو ہوگئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق روات میں قائم کپڑے کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کی شدت کے پیش نظر اسلام آباد، واسا اور دیگر اضلاع سے امدادی اداروں کے فائر بریگیڈ کو بھی طلب کرلیاگیا۔
ریسکیو 1122 کی سربراہی میں آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹنگ آپریشن مسلسل جاری ہے پولیسٹر فائبر سمیت آگ پکڑنے والا دیگر میٹریل موجود ہونے کے باعث آگ ریسکیو کو آگ بجھانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق روات انڈسٹریل اسٹیٹ میں ٹیکسٹائل فیکٹری میں شام چار بجے کے قریب اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 راولپنڈی کی دس ایمرجنسی وہیکلز اور فائر ٹینڈر سمیت 30 سے زائد ریسکیو رضاکار موقع پر پہنچے اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔
فیکٹری و گودام میں بڑی مقدار میں آگ پکڑنے والا میڑیل موجود ہونے کے باعث اگ کی شدت زیادہ ہوگئی۔ جس پر ریسکیو 1122 کی شہر سمیت دیگر اضلاع سے مزید وہیکلز اور اسٹاف سمیت اسلام آباد ،واسا اور بحریہ ٹاؤن کے فائر بریگیڈ کو موقع پر طلب کرلیاگیا۔
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات کا علم نہ ہوسکا تاہم آگ کی شدت بڑھنے پر تمام ضلع کے ریسکیو فائر فائٹرز کو موقع پر طلب کرلیاگیا ہے۔
ڈسڑکٹ ایمرجنسی آفیسر راولپنڈی ریسکیو 1122 صبغت اللہ خود فائر فائٹنگ آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں اور موقع پر 13 ایمرجنسی گاڑیوں سمیت 45 سے زائد ریسکیو اہلکارآپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اسلام آباد سمیت واسا اور بحریہ ٹاؤن کے فائر بریگیڈ کی معاونت بھی حاصل ہے۔
منیجنگ ڈائریکٹر واسا محمد سلیم کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے واسا کے وسائل مکمل طور پر بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ ریسکیو اداروں کے ساتھ واسا راولپنڈی کا بھرپور اشتراک ہے اور آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے پانی کی فراہمی میں کوئی تعطل نہیں شدید آتشزدگی و ہنگامی صورتحال کے باعث راولپنڈی پولیس حکام بھی جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔
ایس ایچ او روات انسپکٹر زاہد ظہور کا ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہناتھاکہ فیکٹری و گودام تقریباً چار کنال پر محیط ہے بیسمنٹ سمیت تین منزلیں ہیں، جہاں تقریبا تین کنال کے گودام میں امپورٹ کی ہوئی پولیسٹر کی رضائیاں اور جائے نمازوں وغیرہ کا بڑا اسٹاک بھی موجود تھا اور فیکٹری میں بھی اشیاء تیار کی جاتی تھیں۔
تاہم جب آف لگی تو فیکڑی و گودام پر صرف چوکیدار موجود تھے جو فرنٹ اور ایک عقبی جانب ڈیوٹی پر تھے وہ محفوظ ہیں انسپکٹر زاہد ظہور کا کہنا تھاکہ اگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہ ہوسکی فائر فائٹنگ مکمل ہونے کےبعد مزید صورتحال واضح ہوگی۔