مشہور ٹک ٹاکر علینہ عامر نے اپنی متنازع ڈیب فیک ویڈیو بنانے اور پھیلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے کہا کہ میں تمام لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچاؤں گی۔
علینہ عامر کی دو ہفتے قبل ایک متنازع ویڈیو وائرل ہوئی تھی، اے آئی سے بنائی گئی اس ویڈیو میں کسی اور لڑکی کے بجائے علینہ عامر کا چہرہ لگاکر وائرل کیا گیا تھا۔
ٹک ٹاکر نے اس معاملے پر ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں اس موضوع پر بالکل بات نہیں کرنا چاہ رہی تھی اور گزشتہ ایک ہفتے سے خاموشی سے سب کچھ دیکھ اور سن رہی تھی، تاہم جب سینکروں ایسی پوسٹ دیکھی کہ علینہ عامر کی ویڈیو لیک ہوگئی ہے تو میں پھر میں نے سوچا کہ ایسے لوگوں کو انہیں کی زبان میں جواب دیا جائے۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اپنی تازہ ویڈیو میں ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ میری ویڈیو بنانے کا یہی مقصد ہے کہ جیسے میں نے کہا تھا کہ میں اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھوں گی اور اپنے لیے آواز اٹھاؤں گی۔
انہوں نے ویڈیو میں ایف آئی آر کا اسکرین شارٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میری ڈیپ فیک ویڈیو کے معاملے پر مقدمہ درج ہوچکا ہے۔
علینہ عامر کا کہنا تھا کہ ایف آر ان تمام لوگوں کے خلاف درج کی گئی ہے کہ جن لوگوں نے نہ صرف مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے اس ویڈیو کو بنایا بلکہ جنہوں نے اسے آگے پھیلایا، اپنے اکاؤنٹ سے شیئر کیا، ان تمام لوگوں کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، صوبائی وزیر حنا پرویز بٹ سمیت این سی سی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام لوگوں نے میری مدد کی۔
میں لڑکیوں کے لیے آواز بننے آئی ہوں جو ایسی ویڈیوز سے ڈرجاتی ہیں اور خاموش بیٹھ جاتی ہیں، لیکن اگر آپ سچے ہیں تو کوئی آپ کو نہیں ہراسکتا اور نہ کوئی آپ کی آواز دباسکتا ہے۔
میں بھی چاہتی تو خاموش رہتی کیوں کہ یہ معاملات 8 سے 10 دن میں ختم ہوجاتے ہیں یا لوگ بھول جاتے ہیں لیکن میں نے ایسا نہیں کیا تاکہ مستقبل میں کسی اور لڑکی کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
میں کسی کو معاف نہیں کروں گا بلکہ ان لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچاؤں گی، اللہ کا شکر ہے اللہ نے مجھے اتنی طاقت دی کہ میں نے آواز اٹھائی اور میں سب لڑکیوں کو یہی مشورہ دیتی ہوں کہ وہ بھی اپنے لیے آواز اٹھائی۔