اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) نے افغان طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک تشویشناک رپورٹ جاری کر دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں جاری ہیں، جبکہ ریاستی جبر اور عوامی آزادیوں پر سخت پابندیاں برقرار ہیں۔
یوناما کے مطابق طالبان حکومت میں آزاد صحافت اور میڈیا پر قدغنیں بدستور قائم ہیں اور حالیہ مہینوں میں ان پابندیوں میں مزید شدت آئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کو دھمکیوں، گرفتاریوں اور سنسرشپ کا سامنا ہے، جس کے باعث آزاد اطلاعات کا حصول شدید متاثر ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں طالبان کے عام معافی کے دعووں کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ یوناما کے مطابق سابق حکومتی اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کے ارکان کو اب بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو اعلان کردہ پالیسیوں کے برعکس ہے۔
خواتین کے حقوق کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے خواتین پر پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں۔ تعلیم، روزگار اور سفر پر عائد رکاوٹیں بدستور برقرار ہیں، جس سے خواتین کی سماجی اور معاشی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
یوناما نے اپنی رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی بھی کی ہے کہ افغانستان میں نظامِ انصاف مفلوج ہو چکا ہے اور نام نہاد فوجداری قوانین کے ذریعے ظلم و زیادتی کو قانونی شکل دی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ترک کر کے افغانستان کی بگڑتی معیشت، انسانی حقوق، تعلیم، صحت اور روزگار کی بحالی کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے، تاکہ افغان عوام کو درپیش سنگین بحران سے نکالا جا سکے۔