عمران خان کو جیل میں کیا سہولیات دستیاب ہیں؟ تفصیلی رپورٹ سامنے آ گئی

عمران خان نے جیل میں سیکیورٹی اور فراہم کردہ خوراک پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ، رپورٹ


ویب ڈیسک February 12, 2026
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

اسلام آباد:

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی فرینڈ آف دی کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں دستیاب سہولیات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان نے جیل میں سیکیورٹی اور فراہم کردہ خوراک پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ سیل میں ہوا اور روشنی کے مناسب انتظام کو بھی تسلی بخش قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو کپڑے دھونے اور صفائی کے لیے مشقتی دستیاب ہے جس کے ذمے واش روم اور سیل کی صفائی بھی ہے۔ انہوں نے صفائی ستھرائی کے انتظام پر اطمینان بھی ظاہر کیاہے۔

علاوہ ازیں سردی کے موسم میں انہیں چھوٹے سائز کا ہیٹر اور بلور فراہم ہے جبکہ سیل میں ہر وقت گرم پانی دستیاب رہتا ہے۔ گرمیوں میں شدید گرمی اور حبس کے پیش نظر انہیں روم کولر بھی فراہم کیا جاتا ہے، تاہم انہوں نے بتایا کہ گرمیوں کے مہینوں میں مچھر اور کیڑے ہوتے ہیں اور انہیں دو سے تین مرتبہ فوڈ پوائزننگ بھی ہوچکی ہے۔

عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے سیل میں تقریباً 10 کیمرے نصب ہیں۔ ایک کیمرہ شاور ایریا سے پہلے تک ہے تاہم کمرے کے اندر کوئی کیمرہ موجود نہیں۔ عمران خان نے کیمرے نصب ہونے پر اعتراض نہیں کیا اور کہا کہ یہ ان کی حفاظت کے لیے ہیں۔ سیل کے قریب 30×12 فٹ کا گرین ایریا بھی موجود ہے تاکہ وہ دھوپ لے سکیں۔

خوراک کے حوالے سے عمران خان نے بتایا کہ انہیں ناشتے میں ایک کپ کافی، دلیہ اور کچھ کھجوریں ملتی ہیں۔ انہیں پورے ہفتے کے مینیو کا انتخاب خود کرنے کا اختیار ہے اور کھانا وہ ذاتی خرچ پر کھاتے ہیں۔ ہفتے میں 2 دن چکن، 2 دن گوشت اور 2 دن دال یا چاٹ/سینڈوچ دیا جاتا ہے جبکہ نیسلے کا بوتل بند پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ رات کو مکمل کھانا نہیں کھاتے بلکہ پھل، دودھ اور کھجوروں پر اکتفا کرتے ہیں۔ سیل کے اندر انہیں چھری، کانٹے اور برتن رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

روزمرہ معمول کے بارے میں عمران خان نے بتایا کہ وہ صبح 9:45 پر ناشتہ کرتے ہیں اور ایک گھنٹہ قرآن پڑھتے ہیں۔ جسمانی ورزش کے لیے محدود آلات دستیاب ہیں جن میں ایکسرسائز مشین اور 9 کلوگرام کے پتھر شامل ہیں۔

شام ساڑھے پانچ بجے سے رات 10 بجے تک وہ سیل میں ہی رہتے ہیں۔ انہیں تقریباً 100 کتابیں دستیاب تھیں جب کہ 32 انچ کا ٹی وی بھی دیا گیا جو چلانے پر نہیں چلا۔ دو سال سے ان کا دانتوں کا چیک اپ نہیں ہوا۔

ملاقاتوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ 5 ماہ سے ان کی ملاقات وکلا سے نہیں کرائی گئی اور اہل خانہ سے بھی ملاقات نہیں ہو رہی تھی، تاہم جیل سپرنٹنڈنٹ کی تبدیلی کے بعد انہیں اہلیہ سے ہفتے میں ایک دن منگل کو 30 منٹ کی ملاقات کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 میں ان کے بیٹوں قاسم اور سلمان سے دو مرتبہ ٹیلیفون پر رابطہ کرایا گیا۔

رپورٹ میں طبی امور سے متعلق بھی تفصیلات شامل ہیں۔ عمران خان نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو سال چار ماہ سے قید ہیں۔ اکتوبر 2025 تک ان کی نظر 6/6 تھی مگر بعد ازاں دھندلا دکھائی دینا شروع ہوا اور دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی جو اب 15 فیصد کام کر رہی ہے۔ انہیں بلڈ کلاٹ ہونے کے بارے میں بتایا گیا۔

ملاقات کے دوران ان کی آنکھوں سے مسلسل پانی نکلتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ 3 ماہ تک ان کا علاج صرف آنکھوں کے قطروں سے کیا جاتا رہا جس سے فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے اپنی عمر کے پیش نظر باقاعدہ بلڈ ٹیسٹ کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف یا کسی ماہر آنکھوں کے ڈاکٹر سے معائنے کا مطالبہ کیا۔

اس معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی ریاستی تحویل میں ہیں اور انہیں دیگر قیدیوں کی طرح یکساں طبی سہولیات ملنی چاہییں، تاہم کسی کو غیر معمولی رعایت نہیں دی جائے گی۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے یقین دہانی کرائی کہ ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

عدالت نے ہدایت کی کہ یہ اقدامات 16 فروری سے قبل مکمل کیے جائیں۔ عدالت نے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی کی اجازت دی تاہم کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں معائنے کی استدعا مسترد کردی اور قرار دیا کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

مقبول خبریں