رمضان المبارک سے پہلے جسم اور روٹین کو کیسے تیار کریں؟

ایک صحت مند، پرسکون اور متوازن رمضان کےلیے پیشگی تیاری کیوں ضروری ہے؟


وقار احمد شیخ February 13, 2026

رمضان المبارک روحانی تربیت کا مہینہ ہے، مگر جسمانی طور پر بھی یہ ہمارے لیے ایک بڑی تبدیلی لے کر آتا ہے۔

اچانک کھانے پینے کے اوقات بدل جانا، نیند کا شیڈول متاثر ہونا اور روزمرہ روٹین میں فرق آ جانا بعض افراد کے لیے تھکن، سر درد اور کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔

اگر ہم رمضان سے چند ہفتے پہلے ہی اپنے جسم اور معمولات کو آہستہ آہستہ ڈھالنا شروع کر دیں تو نہ صرف روزے آسان ہو جاتے ہیں بلکہ عبادات میں یکسوئی بھی بڑھتی ہے۔

ذیل میں چند اہم پہلوؤں پر بات کی جا رہی ہے جو آپ کو رمضان کے لیے بہتر انداز میں تیار ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔


خوراک میں بتدریج تبدیلی لائیں

رمضان سے پہلے سب سے اہم قدم اپنی غذا کو متوازن بنانا ہے۔ اگر آپ دن بھر چائے، کافی یا جنک فوڈ زیادہ استعمال کرتے ہیں تو انہیں اچانک ترک کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ ابھی سے کیفین کی مقدار کم کرنا شروع کر دیں تاکہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں سر درد یا چڑچڑے پن سے بچا جا سکے۔

اپنی غذا میں فائبر، پروٹین اور صحت مند چکنائی شامل کریں۔ دالیں، سبزیاں، پھل، انڈے اور دہی جیسی غذائیں جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرتی ہیں۔ بہت زیادہ تلی ہوئی اور مصالحے دار اشیاء کم کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ معدہ بھی روزے کے لیے تیار ہو سکے۔


پانی پینے کی عادت بہتر بنائیں

اکثر لوگ عام دنوں میں بھی مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے۔ رمضان میں پانی کی کمی تھکن اور کمزوری کا باعث بن سکتی ہے۔ ابھی سے روزانہ کم از کم 8 گلاس پانی پینے کی عادت ڈالیں۔ میٹھے مشروبات اور کاربونیٹڈ ڈرنکس کم کریں اور سادہ پانی یا لیموں پانی کو ترجیح دیں۔


نیند کا شیڈول متوازن کریں

رمضان میں سحری کے لیے جلدی اٹھنا پڑتا ہے، جس سے نیند کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اگر آپ دیر رات تک جاگنے کے عادی ہیں تو آہستہ آہستہ سونے کا وقت پہلے کریں۔ کوشش کریں کہ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند پوری ہو۔ مختصر قیلولہ (پاور نیپ) کی عادت بھی رمضان میں توانائی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔


جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں

اگر آپ ورزش نہیں کرتے تو ہلکی پھلکی واک یا اسٹریچنگ شروع کریں۔ رمضان میں اچانک زیادہ سرگرمی کرنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے پہلے سے جسم کو متحرک رکھنا فائدہ مند ہے۔ روزانہ 20 سے 30 منٹ کی تیز چہل قدمی دل اور پھیپھڑوں کو مضبوط بناتی ہے اور روزے کے دوران سستی کم کرتی ہے۔


ذہنی اور روحانی تیاری بھی ضروری

رمضان صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ ابھی سے اپنی عبادات میں باقاعدگی لانے کی کوشش کریں۔ پانچ وقت نماز کی پابندی، قرآنِ پاک کی تلاوت اور ذکر و اذکار کو معمول بنائیں تاکہ رمضان میں اچانک بوجھ محسوس نہ ہو بلکہ تسلسل قائم رہے۔

اسی طرح منفی سوچ، غیر ضروری اسکرین ٹائم اور سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کو کم کریں۔ ایک مثبت ذہنی فضا آپ کو رمضان میں زیادہ یکسو اور پُرسکون رکھ سکتی ہے۔


روزمرہ روٹین کی منصوبہ بندی کریں

رمضان میں کام، گھر اور عبادات کے درمیان توازن بنانا ضروری ہوتا ہے۔ ابھی سے سوچیں کہ افطار اور سحری کی تیاری کیسے آسان بنائی جا سکتی ہے۔ ہفتہ وار مینو پلان بنانا، اشیائے خوردونوش پہلے سے منگوانا اور گھر کے کام تقسیم کرنا آپ کا وقت بچا سکتا ہے۔

دفتر یا کاروبار کرنے والے افراد اپنے اوقات کار کو بھی ذہن میں رکھتے ہوئے سونے اور جاگنے کا شیڈول ترتیب دے سکتے ہیں۔


چھوٹی تبدیلیاں، بڑا فائدہ

رمضان کی تیاری کسی ایک دن کا کام نہیں بلکہ ایک تدریجی عمل ہے۔ اگر ہم چند ہفتے پہلے سے اپنی غذا، نیند، پانی پینے کی عادت اور روحانی معمولات کو بہتر بنانا شروع کر دیں تو روزے نہ صرف آسان محسوس ہوں گے بلکہ ہم اس بابرکت مہینے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ بھی اٹھا سکیں گے۔

یاد رکھیں، رمضان جسم کو تھکانے نہیں بلکہ سنوارنے اور روح کو مضبوط کرنے کا موقع ہے، شرط یہ ہے کہ ہم اس کا استقبال تیاری کے ساتھ کریں۔

مقبول خبریں