روس نے میٹا کی ملکیت میسجنگ ایپ واٹس ایپ کو باضابطہ طور پر بلاک کر دیا ہے، جس کے بعد ملک میں اس کے کروڑوں صارفین سروس سے محروم ہو گئے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روسی حکام پہلے ہی 2025 میں اس ایپ پر پابندی کے امکان کا عندیہ دے چکے تھے۔
رپورٹس کے مطابق روسی انتظامیہ نے واٹس ایپ کو قومی آن لائن ڈائریکٹری سے ہٹا دیا ہے، جس کے نتیجے میں یہ مؤثر طور پر روسی انٹرنیٹ سے خارج ہو چکی ہے۔
اندازوں کے مطابق روس میں واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد 10 کروڑ سے زیادہ ہے، اس لیے اس فیصلے کے اثرات وسیع پیمانے پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
روسی حکومت اس سے قبل یہ خواہش ظاہر کرچکی تھی کہ صارفین ایک مقامی میسجنگ ایپ ’’میکس‘‘ کی طرف منتقل ہو جائیں، جسے چینی ایپ وی چیٹ کی طرز پر تیار کیا گیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ایپ میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن جیسی سیکیورٹی سہولت موجود نہیں، جس کے باعث پرائیویسی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب میٹا نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی حکومت واٹس ایپ کو مکمل طور پر بلاک کر کے صارفین کو ریاستی نگرانی میں کام کرنے والی ایپ کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔ کمپنی کے بیان میں کہا گیا کہ اس اقدام سے 10 کروڑ سے زائد افراد محفوظ کمیونیکیشن کے حق سے محروم ہو جائیں گے اور ان کی رازداری متاثر ہوگی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ روس نے غیر ملکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف سخت اقدامات کیے ہوں۔ 11 فروری کو ٹیلیگرام کو بھی آن لائن ڈائریکٹری سے ہٹا دیا گیا، جبکہ اس سے قبل فیس بک اور انسٹاگرام تک رسائی بھی ناممکن بنائی جا چکی ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یوٹیوب پر پابندی عائد کی گئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اسے مکمل طور پر آن لائن ڈائریکٹری سے نکال دیا گیا ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ جولائی 2025 میں روسی پارلیمان کے ایک رکن، جو آئی ٹی انڈسٹری کی نگرانی کرتے ہیں، نے عندیہ دیا تھا کہ واٹس ایپ بھی ان ایپس کی فہرست میں شامل ہو سکتی ہے جن پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ روس پہلے ہی میٹا کو انتہا پسند تنظیموں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے، جبکہ روسی صدر نے 2025 میں غیر ملکی کمیونیکیشن ایپس کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی تھی۔
تازہ پیش رفت نے روس میں ڈیجیٹل آزادی، پرائیویسی اور حکومتی نگرانی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ کروڑوں صارفین اب متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔