کراچی:
بلدیہ ٹاؤن مشرف کالونی بسم اللہ ٹاؤن کے ایک گھر میں فائرنگ کرکے میاں بیوی اور جواں سال بیٹے کو قتل کر دیا گیا، فائرنگ کے واقعے میں مقتول عابد علی کی خواہر نسبتی بھی زخمی ہوئی۔
مقتول عابد علی کی جوان بیٹی ایک دن سے لاپتا تھی جس پر مقتول عابد علی کو شبہ تھا کہ اس کی بیٹی کو اس کا ہم زلف دانش لے کر گیا ہے۔ عابد علی کے دونوں ہم زلف دانش اور قدیر اپنی بیویوں کے ہمراہ عابد علی کے گھر بات چیت کرنے آئے ہوئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق جمعے کی صبح سعید آباد تھانے کے علاقے بلدیہ ٹاؤن مشرف کالونی کے عقب میں واقع بسم اللہ ٹاؤن میں گھر میں فائرنگ کرکے میاں بیوی اور جواں سال بیٹے کو قتل کر دیا گیا، فائرنگ کے واقعے میں ایک خاتون بھی زخمی ہوئی، فائرنگ کی آواز سن کر علاقہ مکین جمع ہوگئے۔ علاقہ مکین گھر کا دروازہ بند ہونے پر دیوار کود کر گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ تین افراد کی لاشیں خون میں لت پت پڑی تھیں جبکہ ایک خاتون شدید زخمی تھی۔
علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت فائرنگ کے واقعے میں قتل کیے جانے والے افراد اور زخمی خاتون کو ایدھی ایمبولینسوں کے ذریعے سول اسپتال منتقل کیا، فائرنگ کرکے قتل کیے جانے والوں میں 60 سالہ عابد علی ولد علی زمان، اس کی اہلیہ 50 سالہ مریم زوجہ عابد علی اور جواں سال بیٹا 20 سالہ زوہیب ولد عابد علی شامل جبکہ فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والی خاتون کی شناخت 35 سالہ فاطمہ زوجہ قدیر کے نام سے کی گئی۔
زخمی خاتون مقتول عابد علی کی خواہر نسبتی بتائی جا رہی ہے جو کہ مہمان کے طور پر اپنی بہن کے گھر آئی ہوئی تھی، فائرنگ کے واقعے کی اطلاع پر پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو بھی موقع پر طلب کرلیا۔
ایس ایچ او سعید آباد انسپکٹر پرویز سولنگی نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول عابد علی مزدا ٹرک کا ڈرائیور تھا اور اس کا آبائی تعلق مانسہرہ تھا، مقتول گزشتہ پانچ سے چھ ماہ سے بسمہ اللہ ٹاؤن میں اپنا گھر تعمیر کرکے فیملی کے ہمراہ رہائش پذیر تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مقتول عابد علی کی جوان بیٹی علینہ ایک روز سے لاپتا تھی اور عابد علی کو شبہ تھا کہ اس کی بیٹی کو اس کا ہم زلف دانش لے کر گیا ہے جس پر عابد علی کے دونوں ہم زلف دانش اور قدیر اپنی بیویوں کے ہمراہ عابد علی کے گھر بات چیت کرنے آئے ہوئے تھے اور رات دیر تک عابد علی کے گھر میں موجود رہنے کے بعد ہم زلف دانش اپنی بیوی اور دوسرے ہم زلف قدیر اپنے اپنے گھر چلے گئے تھے تاہم ہم زلف قدیر کی بیوی فاطہ اپنی مقتولہ بہن کے گھر ہی رک گئی تھی۔
پولیس افسر نے بتایا کہ صبح ساڑھے 6 بجے کے قریب ہم زلف دانش دوبارہ اپنی موٹر سائیکل پر مقتول عابد علی کے گھر پہنچا اور دانش نے فائرنگ کرکے اپنے ہم زلف عابد علی، اس کی بیوی مریم اور جواں سال بیٹے زوہیب کو قتل کر دیا جبکہ فائرنگ کے واقعے میں اس کی سالی فاطمہ بھی زخمی ہوگئی جس کے بعد ملزم دانش موقع سے فرار ہوگیا۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ ابتدائی طور پر فائرنگ کا واقعہ مقتول عابد کی بیٹی علینہ کو لے جانے اور جھگڑے کی بنا پر پیش آیا ہے، اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں، تکنیکی بنیادوں پر ملزم کی تلاش جاری ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق فائرنگ کی آواز صبح ساڑھے 6 بجے سنائی دی تھی لیکن کسی نے اپنے گھروں سے باہر نکل کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی اور کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ فائرنگ عابد علی کے گھر میں ہوئی۔
علاقہ مکین عابد علی کے گھر کا دروازہ بند ہونے پر دیوار کود کر گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا تین افراد کی لاشیں خون میں لت پت پڑی تھیں جبکہ ایک خاتون شدید زخمی تھی۔ علاقہ مکینوں نے بھی تصدیق کی کہ گزشتہ رات دانش نامی شخص متاثرہ خاندان کے گھر آیا تھا اور اس کی موٹرسائیکل گھر کے باہر موجود تھی۔
سول اسپتال میں مقتول عابد علی کے رشتہ دار سلیم نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے میں شدید زخمی ہونے والے فاطمہ نے بتایا کہ مقتول عابد کے ہم زلف دانش نے گھر میں گھس کر حملہ کیا ہے۔ مقتول عابد کی بیٹی دانش کے پاس ہے، بیٹی کے معاملے پر عابد اور دانش کے درمیان تنازع تھا۔ ملزم دانش رات گئے عابد کے گھر آیا تھا اور فائرنگ کا واقعہ صبح سویرے پیش آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے شدید زخمی فاطمہ کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے، معلومات لے رہے ہیں کہ واردات میں دانش کے ساتھ بھی مزید کوئی ملزم تھا یا نہیں۔