ملکی قوانین کیخلاف ورزی کے الزام پر روس میں واٹس ایپ کو بند کردیا گیا

روسی حکومت  صارفین کو مقامی میسجنگ سروس “میکس” پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے


ویب ڈیسک February 13, 2026

ماسکو: روس نے امریکی میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ روسی قوانین کی پابندی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ چند دن قبل ہی روس نے مخالف میسجنگ ایپ ٹیلی گرام تک رسائی محدود کر دی تھی۔

روسی حکومت  صارفین کو مقامی میسجنگ سروس “میکس” پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم نہیں کرتی اور بعض ماہرین کے مطابق یہ نگرانی کا ممکنہ ذریعہ ہو سکتی ہے۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں روسی حکام کی جانب سے انٹرنیٹ پر کنٹرول مضبوط کرنے اور شہریوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نگرانی بڑھانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

واٹس ایپ، جو امریکی ٹیک کمپنی میٹا کی ملکیت ہے، روس میں 100 ملین سے زائد صارفین رکھتی ہے۔ روسی نیوز آؤٹ لیٹ RBK کے مطابق، واٹس ایپ 25 سال اور اس سے زائد عمر کے صارفین میں سب سے زیادہ مقبول تھی، جبکہ نوجوان صارفین میں ٹیلی گرام زیادہ مقبول تھا۔

گذشتہ اگست میں روس نے دونوں ایپس پر کالز روک دی تھیں اور الزام لگایا تھا کہ یہ پلیٹ فارمز جرم میں سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ نومبر میں واٹس ایپ کو مکمل پابندی کی دھمکی دی گئی تھی اگر یہ روسی قوانین کی تعمیل نہیں کرتا۔

روس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے فراڈ اور دہشت گردی کے حوالے سے معلومات تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں