انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے مصطفی عامر قتل کیس میں مدعیہ والدہ کی بیٹے کے نفسیاتی علاج کیلئے میڈیکل بورڈ کے قیام کی درخواست پر وکلا سے دلائل طلب کرلیے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو مصطفی عامر قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ ملزم ارمغان کی والدہ کی نے ملزم کے نفسیاتی علاج کے لئے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کی درخواست دائر کی۔
وکیل مدعی بیرسٹر افتخار شاہ نے موقف دیا کہ ملزم ارمغان کو نفسیاتی مریض قرار دیکر ٹرائل سے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
وکیل نے کہا کہ ارمغان کیخلاف پہلے بھی متعدد مقدمات درج ہیں۔ کسی پرانے مقدمے میں ایسی کوئی درخواست نہیں دی گئی۔ ملزم ارمغان کی ذہنی حالت کے بارے میں کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ سول اسپتال کا ماہر نفسیات معائنے کے بعد ملزم کو نارمل قرار دے چکا ہے۔
عدالت نے میڈیکل بورڈ کے قیام کی درخواست پر وکلا سے دلائل طلب کرلیئے۔ عدالت نے ملزم ارمغان اور شیراز پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 19 فروری کی تاریخ مقرر کردی۔ عدالت نے ملزمان کو پیش کرنے کے لئے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کردیئے۔
وکیل صفائی خرم عباس اعوان ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ فرد جرم عائد سے پہلے مقدمے کی نقول فراہم کرنا لازمی ہے۔ استغاثہ نے دستاویزات فراہم نہیں کیں۔ عدالت نے پراسیکیوشن سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے شریک ملزم شیراز کی درخواست ضمانت پر بھی آئندہ سماعت پر دلائل طلب کرلئے۔