لاہور:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے آنکھ کی خرابی پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے اگر اڈیالہ جیل میں کسی کی بینائی چلی جائے تو اس کی ذمہ داری جیل انتظامیہ اور حکومت پنجاب ہے۔
وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی آنکھ کا سن کر بہت دکھ ہوا، سوائے دعا کے کچھ نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے بھی کچھ حقوقِ ہوتے ہیں جو اس کو ملنے چاہیے یہ جیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، میاں محمود الرشید نے چیک اپ کے لیے اسپتال جانا تھا نہیں جاسکے جیل انتظامیہ کے گارڈ نہیں پولیس سیکیورٹی نہیں ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کا علاج بھی سیکیورٹی نہ ہونے کی وجہ نہ ہوسکا، میرا علاج پی کے ایل آئی میں چل رہا ہے، سرجری بچ سے سکتا ہوں ورنہ مجھے ایک اور سرجری کرانا پڑے گی، مجھے پولیس سیکیورٹی نہ ہونے کی سے چیک اپ کے لیے پی کے ایل آئی اسپتال نہیں لے جایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہورمیں اس سارے معاملے کا قصوروار حکومت پنجاب کو ٹھہراتا ہوں، اڈیالہ جیل میں اگر کسی کی آنکھ کی بینائی چلی جائے تو اس کی ذمہ دار جیل انتظامیہ اور حکومت پنجاب ہے۔
وائس چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آپ لوگوں کو پہلے سولر پر لے کر آئے، لوگوں نے اپنی جمع پونجی سولر لگوانے پر لگا دی اب جو پالیسی بنائی گئی ہے اس پر وزیراعظم بھی بے بس نظر آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) ایک شخص بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ کے بارے میں کہہ رہا کہ وہ مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہیں، مجھے بہت افسوس ہوا وہ بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں، اتنی بے حسی مناسب نہیں ہوتی یہ کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں اس ملک میں امن دیکھنا چاہتا ہوں، جو بلوچستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں بھارت کا ہاتھ ہے، میں حکومت کے مؤقف کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں، میں ملک میں الجھاؤ اور بے چینی نہیں دیکھنا چاہتا۔