سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ملک کی سیاسی فضا میں شائستگی اور اخلاقی اقدار کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے یہ ردعمل اس ویڈیو کے بعد دیا جسے صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا گیا تھا، جس میں اوباما اور سابق خاتونِ اول کو توہین آمیز انداز میں دکھایا گیا۔
ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں اوباما نے کہا کہ امریکی سیاسی گفتگو میں غیرمعمولی حد تک سختی اور بے ادبی آچکی ہے۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ پہلے عوامی عہدوں کے احترام اور شائستگی کا خیال رکھا جاتا تھا، مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی کمی ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ 5 فروری کو شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں 2020 کے صدارتی انتخابات سے متعلق سازشی دعوؤں کے دوران اوباما اور ان کی اہلیہ کو ایک لمحے کے لیے بندر کے جسم پر دکھایا گیا تھا، جس پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے ویڈیو کو ہٹا دیا اور اسے عملے کی غلطی قرار دیا۔
اوباما نے صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر بھی تنقید کی، خاص طور پر ریاست منی سوٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیوں پر۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اہلکاروں کا طرزِ عمل بعض اوقات آمرانہ طرزِ حکومت کی یاد دلاتا ہے۔
ادھر ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں مجرم عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز کا حصہ تھیں۔ تاہم ان اقدامات کے خلاف ملک بھر میں احتجاج بھی دیکھنے میں آیا، جبکہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی فنڈنگ پر کانگریس میں اختلافات سامنے آئے ہیں۔