بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کو تہاڑ جیل سے رہا کردیا گیا

چیک باؤنس کیس میں متعدد بالی ووڈ اداکاروں نے راجپال یادو کی مدد کی


ویب ڈیسک February 16, 2026

بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کو چیک باؤنس کیس میں ضمانت مل گئی جس کے بعد انہیں جیل سے رہا کردیا گیا۔ 

بالی ووڈ کو درجنوں بلاک بسٹر کامیڈی فلمیں دینے والے اداکار راجپال یادو کو ایک ایسے کیس میں ضمانت مل گئی ہے جو 2010 سے ان کا پیچھا کر رہا تھا۔

طویل عرصے سے جاری چیک باؤنس کیس میں قانونی مشکلات کا سامنا کرنے والے اداکار کو فلم انڈسٹری کی جانب سے ملنے والی حمایت کے بعد بالآخر مشروط ضمانت مل گئی۔ 

عدالت کی جانب سے راجپال یادو کو فروری کے پہلے ہفتے میں تہاڑ جیل میں سرنڈر کرنے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ وہ عدالت سے منظور شدہ تصفیہ معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کر رہے تھے۔

گزشتہ ہفتے دہلی کی ایک عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تقریباً 9 کروڑ روپے کی ادائیگی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ 

جسٹس سوارنا کانتا شرما نے واضح کیا تھا کہ یادو کی قید محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ وہ اس لیے جیل گئے کیونکہ انہوں نے اپنی مرضی سے کیے گئے تصفیہ معاہدے کی شرائط پوری نہیں کیں۔

تاہم پیر (16 فروری) کو یادو کو کچھ شرائط کے ساتھ ضمانت مل گئی جس سے انہیں عارضی ریلیف حاصل ہوا۔

کیس کیا ہے؟

یہ معاملہ 2010 کا ہے جب یادو اور ان کی اہلیہ نے اپنی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’آتا پتا لاپتا‘ کے لیے تقریباً 5 کروڑ روپے قرض لیا تھا، فلم باکس آفس پر ناکام ہونے کے بعد قرض کی واپسی مشکل ہو گئی تھی۔ 

مدعی کمپنی مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیے گئے متعدد چیکس باؤنس ہوگئے تھے، جس کے بعد نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی شروع ہوئی جب کہ سود اور جرمانوں کے باعث بقایا رقم بڑھ کر تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

تصفیہ معاہدہ ہونے کے باوجود یادو مبینہ طور پر طے شدہ ادائیگیوں پر عمل نہ کر سکے، جس کے باعث اس ماہ کے آغاز میں عدالت نے سخت کارروائی کی اور انہیں تہاڑ جیل میں سرنڈر کرنا پڑا۔

مقبول خبریں