جو سیاست میں مشکلات برداشت نہیں کر سکتا وہ کوئی اور کام کرلے، صدر زرداری

اس شخص کی ٹی وی پر تقریر آتی تھی تو باقی تقریریں بند ہو جاتی تھیں، ڈیڑھ سال نہیں ہوا کہ آواز آرہی ہے، عوامی اجتماع سے خطاب


ویب ڈیسک February 17, 2026
فوٹو اسکرین گریپ

وہاڑی:

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سیاست میں مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں، جو نہیں کر سکتا کوئی اور شعبہ اختیار کرلے۔

عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک کے حالات پہلے سے بہتر ہو چکے ہیں، تاہم مکمل بہتری میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی ایک مسلسل عمل ہے  اس میں مشکلات کے باوجود ریاستی ادارے اور عوام مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔

آصف زرداری نے اپنے خطاب میں سیاسی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کو روزانہ بھاشن دینے کی عادت تھی لیکن عملی میدان میں مشکلات کا سامنا کرنا ہر سیاستدان کا امتحان ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی قید کے دنوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 14 سال جیل میں گزارے اور جب اپنے بچوں سے ملے تو وہ قد میں ان سے بڑے ہو چکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ  جب اس شخص کی ہر ٹی وی پر تقریر آتی تھی تو باقی تقریریں بند ہو جاتی تھیں۔ ڈیڑھ سال نہیں ہوا کہ وہاں سے آواز آ رہی ہے، بیٹا کہہ رہا ہے کہ اسے ملنے نہیں دیا جا رہا۔

صدر زرداری کا کہنا تھا کہ سیاست میں مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں اور اگر کوئی یہ برداشت نہیں کر سکتا تو اسے کوئی اور شعبہ اختیار کرنا چاہیے۔ سیاست ایک ہمہ جہت ذمہ داری ہے جس میں ہر شعبہ شامل ہوتا ہے۔ قیادت کے لیے برداشت، لچک اور سیاسی بلوغت ضروری ہیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ حکمرانی میں سنجیدگی اور دور اندیشی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے قومی ترقی کو زرعی شعبے کی مضبوطی سے مشروط قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ۔ ملک کی پائیدار ترقی کا انحصار جدید زرعی طریقوں کے فروغ اور کسانوں کو سہولتوں کی فراہمی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی چیلنجز کا مستقل حل زراعت میں پوشیدہ ہے ۔ کسانوں کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت پانی کے مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبی وسائل کا بہتر انتظام ناگزیر ہے۔ ملک میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ تسلسل اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

صدر زرداری نے مختلف صوبوں کی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر صوبے کے حالات مختلف ہیں۔ ملک کی ترقی کے لیے تمام صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ اگر ترقی کا عمل رک جائے تو اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس ہوتے ہیں۔

صدر زرداری کا کہنا تھا کہ انہوں نے ججز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا تاکہ عدالتی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواہش ہے کہ آنے والی نسلیں موجودہ قیادت کو مثبت انداز میں یاد کریں۔

صدر مملکت نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔

صدر زرداری کا کہنا تھا کہ سیاسی تعاون انتہا پسندانہ رجحانات کو روکنے میں مدد دیتا ہے ، لہٰذا قومی مفاد میں تمام قوتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کے لیے سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

 

مقبول خبریں