خرطوم: سوڈان کے وسطی علاقے میں ایک مصروف بازار پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہو گئے۔ انسانی حقوق کے گروپ ایمرجینسی لائرز اس حملے کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ حملہ شمالی کردفان کے علاقے سوداری کے قریب الصفیہ مارکیٹ میں کیا گیا، جو اس وقت عام شہریوں سے بھری ہوئی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ابتدائی ہے اور اس میں اضافے کا خدشہ ہے۔
یہ علاقہ اس وقت سوڈانی فوج اور نیم فوجی فورس آر ایس ایف کے درمیان شدید لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ تین سال سے جاری اس خانہ جنگی میں دونوں فریق ایک دوسرے پر فضائی حملے کر رہے ہیں۔
سوداری شمالی کردفان کا ایک دور افتادہ قصبہ ہے جو ریاستی دارالحکومت الابیض سے تقریباً 230 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ کردفان کا علاقہ اس وقت مشرق سے مغرب تک پھیلے اہم زمینی راستے کی وجہ سے اس جنگ کا اہم محاذ بن چکا ہے، جو دارفور کو خرطوم سے ملاتا ہے۔
گزشتہ ہفتے بھی ایک اسکول پر حملے میں دو بچے ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جبکہ ایک اور حملے میں اقوام متحدہ کے امدادی گودام کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
اپریل 2023 سے جاری اس جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، جس کے باعث سوڈان کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ملک عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے، جہاں فوج وسطی، شمالی اور مشرقی علاقوں پر قابض ہے جبکہ آر ایس ایف مغربی علاقوں اور بعض جنوبی حصوں پر کنٹرول رکھتی ہے۔