جنیوا: امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کا دوسرا اہم دور آج سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شروع ہو رہا ہے۔
یہ مذاکرات عمانی سفارت خانے میں منعقد ہوں گے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث انہیں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکی مشرقِ وسطیٰ کے نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر سے بالواسطہ مذاکرات کریں گے۔ یہ رابطہ عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد کے ذریعے ہوگا۔
امریکا کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کا دائرہ کار ایران کے میزائل پروگرام سمیت دیگر غیر جوہری معاملات تک بھی بڑھایا جائے۔
تہران کا مؤقف ہے کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے اقتصادی پابندیوں میں نرمی پر بات کرے گا اور یورینیم کی صفر افزودگی (زیرو انریچمنٹ) قبول نہیں کرے گا۔
مذاکرات سے ایک روز قبل عباس عراقچی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے ملاقات کی، جس میں جوہری ماہرین کے ساتھ تکنیکی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب خطے میں عسکری تیاریوں میں اضافہ اور ممکنہ جنگ کے خدشات بڑھ رہے ہیں، جس سے ان بات چیت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔