اسلام آباد:
الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور انتخابی عملے کو دھمکیاں دینے کے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔
الیکشن کمیشن کے نوٹس اور بابر نواز کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی۔ سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری اور درخواست گزار بابر نواز کے وکیل سجیل سواتی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔
کمیشن میں درخواست گزار بابر نواز کے وکیل سجیل سواتی، الیکشن کمیشن کے وکیل خرم شہزاد اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری نے دلائل دیے جس کے بعد فیصلہ محفوظ ہوا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل خرم شہزاد نے دلائل میں کہا کہ ضمنی انتخاب کیلئے ضلعی انتظامیہ اور افسران الیکشن کمیشن کے ماتحت تھے، الیکشن عملہ کو دھمکانے کا مطلب الیکشن کمیشن کو دھمکانا ہے، عدلیہ نے بھی یہ قرار دیا کہ الیکشن عملہ کا تحفظ کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
وکیل کمیشن نے کہا کہ سہیل آفریدی کے خلاف کرپٹ پریکٹسز کی کارروائی ہو سکتی ہے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی رکنیت کو فوری طور پر معطل کیا جا سکتا ہے، سہیل آفریدی کے خلاف فیصلے کی صورت میں نا اہلی ہو سکتی ہے۔
سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ کمیشن نے کبھی پی ٹی آئی کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، اگر کارروائی کرنی ہے تو میری وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف درخواست پر بھی کی جاتی۔
ممبر سندھ الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ کیس صرف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نہیں دھمکانے کا بھی ہے، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ آپ نے اپنی درخواست مسترد کرنے کے کمیشن کے آرڈر کو کہیں چیلنج کیا؟ جس پر علی بخاری نے کہا کہ میں نے چیلنج نہیں کیا، اس آرڈر کو میں مثال بنا کر پیش کر رہا ہوں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی ترقیاتی اسکیموں کا اعلان کیا۔
ممبر سندھ الیکشن کمیشن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ تو نہیں کہا کہ "صبح یا رات نہیں دیکھ پائیں گے"، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی آپ کے کیس سے کوئی مماثلت نہیں ہے، آپ کو اپنی درخواست مسترد ہونے کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا چاہیے تھا، کیا سہیل آفریدی نے قدرت کو کہا کہ صبح نہیں ہوگی؟۔
علی بخاری نے کہا کہ سہیل آفریدی عوامی اجتماع میں سیاسی بات کر رہے تھے، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سہیل آفریدی عوامی اجتماع میں کہے یا بند کمرے میں وہ بطور وزیر اعلیٰ بات کر رہے تھے، ممبر کے پی نے کہا کہ کیا آپ کا یہ کہنا ہے کہ یہ دھمکی نہیں بد دعا تھی؟۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ نے کمیشن پر الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے حق میں کبھی کوئی فیصلہ نہیں آیا، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ارکان کے ڈفیکشن کیس میں جماعت کے حق میں فیصلہ دیا تھا، الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔