پشاور ہائیکورٹ کے حکم کی روشنی میں پولیس نے صوبے بھر کی بند شاہراہوں پر دھرنا دے کر بیٹھے مظاہرین کو منتشر کر کے سڑکوں کو کھول دیا۔
پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے عوامی شاہراہوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے فوری طور پر بحال کرنے کے احکامات کے بعد خیبرپختونخوا پولیس اور انتظامیہ مکمل طور پر متحرک ہو گئی ہے اور صوبے بھر میں بند سڑکیں کھولنے کا عمل بڑے پیمانے پر شروع کر کے متعدد اہم شاہراہوں کو بحال کر دیا۔
آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق عدالت عالیہ نے واضح کیا تھا کہ عوام کے حقِ نقل و حمل (Right to Movement) میں رکاوٹ ڈالنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
جس کے تناظر میں آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے تمام ریجنل اور ضلعی پولیس افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی احکامات پر من و عن عمل کیا جائے اور شہریوں کی آمد و رفت میں آسانی کے لیے فوری طور پر تمام بند راستے کھلوائے جائیں۔
کارروائی کے دوران پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ملانے والے اہم مقام اٹک پل جی ٹی روڈ پر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹا کر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کو میانوالی اور چشمہ سے ملانے والی سڑکیں بھی کھلوا لی گئیں، ڈیرہ اسماعیل خان تا اسلام آباد موٹر وے ایم-14 سی پیک یارک ٹول پلازہ کو بھی کلیئر کر کے عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے جبکہ ہزارہ موٹر وے پر حویلیاں اور مسلم آباد انٹر چینج بھی پولیس نے کھلوا دیئے ہیں۔
آئی جی کے پی کے مطابق اس آپریشن کا بنیادی مقصد شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرنا، کاروباری و روزمرہ معمولات کو متاثر ہونے سے بچانا اور عوام کو یقین دہانی کرانا ہے کہ شاہراہوں کی بندش کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور آئین و قانون کے مطابق عوام کے حقِ نقل و حرکت کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔