پشاور:
چینی منصوبوں اور شاہراہِ ریشم سے منسلک اسٹرٹیجک روڈ کوریڈور کو نشانہ بنانے والے فتنۃ الخوارج کے منظم نیٹ ورک کے خلاف کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، ایلیٹ فورس اور ضلعی پولیس شانگلہ نے کبل گرام کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں انٹیلیجنس بیسڈ ٹارگٹڈ جوائنٹ آپریشن کرتے ہوئے تین دہشت گرد ہلاک کر دیے۔
پولیس کے مطابق خفیہ اطلاعات تھیں کہ یہ گروہ ماضی میں چینی باشندوں پر ہونے والے VBIED حملوں میں بھی ملوث رہا ہے اور شاہراہِ ریشم کے قریب ہونے کے باعث چینی منصوبوں اور اہم قومی تنصیبات کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا تھا۔
اسی بنیاد پر سی ٹی ڈی افسران کی قیادت میں کبل گرام کے مختلف علاقوں میں کارروائی کی گئی جہاں دہشت گرد قدرتی غاروں میں پناہ لیے ہوئے تھے اور انہیں مقامی سہولت کاری بھی میسر تھی۔
پولیس جب غاروں میں موجود ٹھکانوں کی جانب بڑھی تو دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہوا جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اس دوران تین دہشت گرد مارے گئے جن میں نور اسلام عرف سلمان عرف خوگ بچہ ولد زمان ولی ساکن کبل گرام شانگلہ فتنۃ الخوارج کا سرغنہ تھا جس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی، جبکہ ایک دہشت گرد نامعلوم ہے جس کی شناخت کا عمل جاری ہے اور تیسرے دہشت گرد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
پولیس کے مطابق باقی شرپسند ایک ڈھلوان کے نیچے پناہ لے کر فرار کی کوشش کرتے رہے تاہم جب سیکیورٹی فورسز نے گرفتاری کے لیے پیش قدمی کی تو دہشت گردوں کے ساتھیوں نے آر پی جی اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر کے اپنے ساتھیوں کو نکالنے کی کوشش کی مگر پولیس اور ایلیٹ فورس نے بھرپور جوابی کارروائی سے حملہ پسپا کر دیا۔
اس دوران فرض کی راہ میں بہادری سے لڑتے ہوئے پولیس کے تین جوان جامِ شہادت نوش کر گئے جن میں ایل ایچ سی مقبول احمد نمبر 438، ایل ایچ سی فدا حسین اور ایل ایچ سی سعید الرحمان شامل ہیں جبکہ ایلیٹ فورس کا ایک جوان زخمی ہوا جو زیر علاج ہے۔
پولیس کے مطابق آپریشن کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن اور نگرانی بدستور جاری ہے جبکہ انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے شہید اور زخمی جوانوں کی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی اور قوم کے لیے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں۔