یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے تحت روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور آج (بدھ) جنیوا میں دوبارہ شروع ہونے والا ہے۔
امریکی حکام نے مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دیا ہے، تاہم کسی بڑی کامیابی کی توقع کم ظاہر کی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ مذاکرات تقریباً چار سال سے جاری جنگ کو روکنے کی تازہ سفارتی کوشش ہیں۔ اس جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک یا بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ یوکرین کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق فریقین نے اپنے اپنے رہنماؤں کو آگاہ کرنے اور بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے باعزت معاہدے کی جانب تیزی سے بڑھنے کو تیار ہیں، تاہم انہوں نے روس کی نیت پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر روس سنجیدہ ہے تو اسے میزائل حملوں کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دینا ہوگی۔
روسی ترجمان دمتری پیسکوف نے پہلے ہی عندیہ دیا تھا کہ مذاکرات کے پہلے دن کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہ رکھی جائے۔ ادھر یوکرین نے الزام عائد کیا ہے کہ مذاکرات سے قبل روس نے میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ روس نے بھی یوکرین پر اپنے علاقوں پر ڈرون حملوں کا الزام لگایا ہے۔
روس 2014 میں کریمیا پر قبضے کے بعد یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر قابض ہے اور مشرقی ڈونیتسک کے مکمل کنٹرول کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے کیف نے مسترد کر دیا ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے کے لیے سکیورٹی ضمانتیں ناگزیر ہوں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن فریقین کے سخت مؤقف کے باعث کسی بڑے بریک تھرو کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔