کینسر کے مریضوں کے لیے خوراک کے حوالے سے ایک تشویشناک تحقیق سامنے آگئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جو مریض الٹرا پراسیسڈ فوڈز (UPFs) زیادہ مقدار میں استعمال کرتے ہیں، وہ اپنی بیماری سے تقریباً 60 فیصد زیادہ جلد موت کے خطرے کا سامنا کر سکتے ہیں۔
یہ تحقیق کینسر آگاہی کے حوالے سے معروف جریدے میں شائع ہوئی جو کہ امریکی تحقیقی ادارے برائے کینسر کا آفیشل جرنل ہے۔
علاوہ ازیں اٹلی کے تحقیقی ادارے سے وابستہ ماہرین نے جنوبی اطالوی علاقے مولیز میں 2005 سے 2022 تک 24 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا۔
ان میں 802 کینسر سے صحتیاب افراد بھی شامل تھے جن کی غذائی عادات کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق جن افراد کی خوراک میں الٹرا پراسیسڈ فوڈز کا تناسب سب سے زیادہ تھا، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 48 فیصد جبکہ کینسر سے موت کا خطرہ 59 فیصد زیادہ پایا گیا۔
الٹرا پراسیسڈ فوڈز میں آئس کریم، پراسیسڈ گوشت، چپس، بیکری مصنوعات، ریڈی میڈ کھانے، میٹھے مشروبات اور مصنوعی مٹھاس والی اشیا شامل ہیں۔
ماہرِ تحقیق ڈاکٹر ماریالورا بوناشیو کے مطابق صنعتی طریقے سے تیار کردہ خوراک میں شامل کیمیکل اجزا جسم کے میٹابولزم کو متاثر کر سکتے ہیں، آنتوں کے بیکٹیریا کا توازن بگاڑ سکتے ہیں اور سوزش میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بظاہر کیلوریز اور غذائیت ایک جیسی ہونے کے باوجود پراسیسنگ کا عمل خوراک کو زیادہ نقصان دہ بنا سکتا ہے۔