اگست 2024 میں طلباء کے لائے ہوئے مون سون انقلاب کے بعد عبوری حکومت بنی جس نے 12 فروری 2026کو عام انتخابات کروا دیے۔ ملک کے چیف ایڈوائزر جناب محمد یونس نے کہا کہ نیا بنگلہ دیش وجود میں آ گیا ہے۔ جناب محمد یونس کو انقلابیوں نے حکومت سنبھالنے کی دعوت دی تھی،انھوں نے بہت اچھا کردار نبھایا اور کسی بھی سکینڈل کی زد میں آئے بغیر عام انتخابات کروا دئے۔بنگلہ دیش میں یہ 13 ویں انتخابات تھے۔
انتخابات میں ٹرن آؤٹ 60 فیصد رہا جو بہت اچھا کہا جا سکتا ہے لیکن بنگلہ دیشی روایتی ٹرن آؤٹ سے قدرے کم ہے۔نتائج کے مطابق بی این پی یعنی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔بی این پی نے 300کے ایوان میں 212نشستیں جیتیں جب کہ اس کے مدِ مقابل جماعتِ اسلامی 77 نشستیں لینے میں کامیاب ہوئی۔بی این پی کو دو تہائی اکثریت مل جانے سے اسے قانون سازی میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہوگی۔
البتہ بی این پی نے ایسے اشارے دیے ہیں کہ وہ کوشش کرے گی کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے۔یہ ایک انتہائی مثبت سوچ ہے جس پر عملدرآمد سے ملی یکجہتی کی راہیں کھلیں گی۔بنگلہ دیش خوش قسمت ہے۔یہاں کوئی صوبہ نہیں،سب ایک زبان بولتے اور ایک کلچر کے پروردہ ہیں۔
بنگلہ دیش انتخابات میں ماضی کی بڑی اور مضبوط جماعت عوامی لیگ پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی تھی۔کیا ہی اچھا ہوتا گر عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے دیا جاتا۔نتائج کچھ مختلف نہیں ہونے تھے کیونکہ شیخ حسینہ نے آخری دور میں بے حد ظلم و زیادتی کی،بہت مظالم ڈھائے اور بہت Witch huntingکی جس کی وجہ سے انتخابی ہار عوامی لیگ کے لیے نوشتۂ دیوار تھی۔ہاں عوامی لیگ کو چند نشستیں ضرور مل جانی تھیں لیکن اس سے انتخابات کی Credibilityبہت بڑھ جانی تھی اور پورے ملک میں کہیں بھی محرومی کا احساس نہ ہوتا۔بہر حال انتخابات ہو گئے ہیں اور 17فروری کو جناب طارق رحمٰن نے وزیرِ اعظم کا حلف اٹھا لیا ہے۔
طارق رحمٰن 17سال ملک سے باہر یو کے میں رہے۔ باہر جانے سے پہلے ان کی شہرت گدلائی ہوئی تھی۔ان کی غیر موجودگی میں ان پر مقدمہ چلا اور سزا ہوئی۔ گذشتہ برس جناب محمد یونس کی عبوری حکومت نے ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لے لیے اور انھیں بنگلہ دیش واپس آنے اور اپنے والد اور والدہ کی سیاسی پارٹی کو لیڈ کرنے کا موقع فراہم کیا۔جلا وطنی سے واپسی پر وہ بہت بدلے ہوئے نظر آئے۔
ان کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ عیاںہے۔جناب طارق رحمٰن کو حکومت کرنے کا کوئی تجربہ نہیں۔اس کے ساتھ ان کو سیاسی پارٹی چلانے کا بھی تجربہ نہیں لیکن وہ بنگلہ دیش کے آرمی چیف و صدر اور بنگلہ دیش کی سابقہ مرحومہ وزیرِ اعظم کے بیٹے ہیں۔ انھوں نے گھر میں بہت سیاست اور اقتدار دیکھا ہے،اس لیے اگر وہ ایک بہترین حکومتی سیاسی ٹیم اکٹھی کرلیں تو بہت کامیابی سمیٹیں گے۔
بی این پی کی مرکزی اپوزیشن پارٹی جماعتِ اسلامی نے کل ملا کر 77نشستیں جیتی ہیں۔گذشتہ اسمبلی میں محض چند نشستوں والی اس سیاسی پارٹی نے بظاہر بہت اچھی انتخابی کارکردگی نہیں دکھائی لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس پارٹی نے پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ نشستیں جیتی ہیں۔یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیئے کہ ڈھاکہ شہر میں بی این پی نے اکاون فیصد جب کہ جماعت اسلامی نے 49فیصد ووٹ حاصل کیے یوں ڈھاکہ شہر میں دونوں جماعتوں کی سپورٹ قریب قریب برابر ہے۔
جماعتِ اسلامی نے پورے ملک میں 44فیصد ووٹ لیے ہیں جو بری کارکردگی نہیں لیکن یہ کارکردگی ایک ایسی فضا میں ہو رہی ہے جب عوامی لیگ میدان میں نہیں۔نوجوان اور طلباء کی بہت بڑی تعداد بھی جماعتِ اسلامی کی طرف موافقانہ نظر سے دیکھ رہی تھی۔ جماعتِ اسلامی کو جتنا بہتر ماحول اس الیکشن میں ملا،وہ شاید کبھی دوبارہ نہ مل سکے۔جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش اگر جیت کر حکومت بنا لیتی تو انڈیا اور عوامی لیگ کو بہت مشکلات کا سامنا ہوتا۔
جناب طارق رحمٰن نے بنگلہ دیش واپسی کے بعد سے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے تک شیخ حسینہ یا عوامی لیگ کے خلاف کوئی منفی بیان نہیں دیا۔عوامی لیگ کو اندیشہ تھا کہ اگر جماعتِ اسلامی اقتدار میں آ گئی تو عوامی لیگ اور شیخ حسینہ کے لیے بہت برا ہوگا۔ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عوامی لیگ کے کارکن گھروں میں بیٹھے رہنے کے بجائے ووٹ کاسٹ کرنے میں بھرپور انداز میں شریک ہوئے اور مصلحت کے تحت بی این پی کو ووٹ ڈالا تاکہ بی این پی جو کہ بظاہر ایک معتدل لبرل جماعت ہے،وہ جیتے۔اس خیال میں بہت وزن ہے اور شاید یہی ہوا ہو۔
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت نے بہتMatureاندازِ سیاست اپنایا ہے۔جماعت قیادت نے نتائج تسلیم کیے، جناب طارق رحمٰن کو مبارک باد دی،پھول اور قومی معاملات میں اپنا تعاون پیش کیا۔جماعت نے الیکشن قواعد کے مطابق کوئی 30 نشستوں کے انتخابی نتائج کو چیلنج کیا ہے۔یہ ان کا جمہوری حق ہے،مخالفت برائے مخالفت ہرگز نہیں۔جناب طارق رحمٰن کی بی این پی کو بنگلہ دیش اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ انتخابات جیتنے کے بعد ان کو انڈیا،پاکستان ، کئی دوسرے ممالک اور ان کی قیادت کی طرف سے مبارک باد دی گئی ہے۔جناب شہباز شریف نے تو پاکستان دورے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ بی این پی کی طرف سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ جناب طارق رحمٰن کی حکومت ریجنلConnectivityبڑھانے اور خطے میں امن و آشتی کے ماحول کو پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دے گی۔اس مقصد کے حصول کے لیے ان کے پاس سارک کا پلیٹ فارم موجود ہے جو اس وقت نان فنکشنل پڑا ہے۔انڈیا چاہتا ہے کہ سارک کا کوئی بھی سربراہی اجلاس پاکستان میں نہ ہو۔یوں ایک ڈیڈ لاک کی کیفیت ہے۔بنگلہ دیش کی حکومت اس سلسلے میں فعال کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ انڈیا چاہے گا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ اس کے تعلقات میں موجود سرد مہری ختم ہو۔