اوکاڑہ:
گرین کارپوریٹ لائیواسٹاک انیشیٹو (جی سی ایل آئی) نے ملک کی پہلی جینڈر سورٹڈ اسٹرا لیب اوکاڑہ میں قائم کردی۔
اس انقلابی پیش رفت سے پاکستان کے لائیواسٹاک شعبے میں جدید سائنسی بنیادوں پر ترقی کی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔
جی سی ایل آئی کا کہنا ہے کہ ادارہ قومی سطح پر لائیوسٹاک سیکٹر کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جینیاتی بہتری، جدید بریڈنگ ٹیکنالوجی، کارپوریٹ فارمنگ اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے لائیوسٹاک کو ایک پائیدار اور منافع بخش صنعت میں تبدیل کرنا ہے۔
لیب کے قیام کے بعد کسانوں کو مناسب قیمت پر معیاری جینڈر سورٹڈ اسٹرا فراہم کیے جا رہے ہیں۔ جینڈر سورٹڈ اسٹرا ٹیکنالوجی کی بدولت مصنوعی افزائش نسل کے دوران جانوروں کی جنس کا انتخاب ممکن ہو گیا ہے، جس سے پیداواری اہداف زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈیری فارمنگ میں مادہ جانوروں کی زیادہ اہمیت کے پیش نظر یہ ٹیکنالوجی دودھ کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ممکن بناتی ہے، جبکہ بیف سیکٹر میں نر جانوروں کے انتخاب سے گوشت کی پیداوار اور معیار میں بہتری آتی ہے۔
اس سے قبل پاکستان میں جینڈر سورٹڈ اسٹرا بیرونِ ملک سے درآمد کیا جاتا تھا، جو مہنگا ہونے کے ساتھ محدود پیمانے پر دستیاب تھا۔ جی سی ایل آئی کے اس اقدام سے اب یہ سہولت عام کسانوں کی دسترس میں آ گئی ہے، جس سے اخراجات میں کمی اور پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔
اعلیٰ معیار کے اسٹرا کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے جی سی ایل آئی نے امریکہ، برازیل، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے اعلیٰ خصوصیات کے حامل نامور بریڈنگ بیلز درآمد کیے ہیں۔ دودھ اور گوشت کے لیے الگ الگ نسلوں کے جینڈر سورٹڈ اسٹرا کسانوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ شعبے کی مخصوص ضروریات پوری کی جا سکیں۔
کسانوں نے جی سی ایل آئی کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے لائیوسٹاک کے شعبے میں جینیاتی بہتری، پیداوار میں اضافہ اور معاشی استحکام کو فروغ ملے گا۔