ڈیرہ اسماعیل خان: سی ٹی ڈی کی کارروائی، خاتون خودکش حملہ آور رنگے ہاتھوں گرفتار

خفیہ اداروں کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی کہ جوان خودکش حملہ آور خاتون موجود ہے، ترجمان


ویب ڈیسک February 21, 2026

محکمہ انسداد دہشتگردی خیبر پختونخواہ ڈیرہ ریجن نے مصدقہ  اطلاع پر کامیاب کارروائی، کرتے ہوئے دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا، ڈیرہ اسماعیل خان کی بروقت کارروائی میں شیخ یوسف خیمہ بستی سے خاتون خودکش حملہ آور کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ انسداد دہشتگری ڈیرہ اسماعیل خان ریجن کو خفیہ اداروں کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی کہ شیخ یوسف خیمہ بستی میں ایک جوان العمر خودکش حملہ آور خاتون موجود ہے۔

اطلاع پر سی ٹی ڈی سپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹکس ٹیمز (SWAT) نے  چھاپہ مار کر متذکرہ مقام پر ایک جوان العمر لڑکی کو پا کر پوچھ گچھ کرنے پر خاتون نے اپنا نام مسماۃ (ز) بتلایا اور کہا کہ وہ عرصہ دراز سے خارجی کمانڈر شاہ ولی عرف طارق کوچی کی تربیت میں رہی جو اب مر چکا  ہے۔

مبینہ خاتون خودکش حملہ آور نے مزید بتلایا کہ وہ کالعدم تنظیم کی رکن ہے اور اس نے حالیہ دنوں میں خودکش حملے کیلئے رضامندی ظاہر کی تھی جس کیلئے خودکش جیکٹ اور ٹارگٹ خارجی کمانڈر عاصم نے فراہم کرنا تھی۔

خاتون کے خیمے سے ایک عدد کمانڈو بیگ بھی ملا جس میں پستول بمعہ  کارتوس، پرفیوم جو بارود کی بو کو اپنی خوشبو میں جذب کرے، 2 موبائل فون جس میں کالعدم تنظیم سے رابطے وغیرہ تھے، پاور بینک اور دیگر سامان برآمد ہوا۔

ان انکشافات کے بعد مبینہ خاتون خودکش حملہ آور کو باضابطہ گرفتار کر کے مزید تفتیش کیلئے  منتقل کر دیا گیا ہے۔

انسپیکٹر جنرل اف پولیس ذوالفقار حمید نے سی ٹی ڈی ٹیم کی کامیاب اپریشن کو سراہتے ہوئے نقد انعام کا اعلان کر دیا۔

سی ٹی ڈی حکام نے  واضح کیا  کہ صوبہ بھر میں دہشتگردوں کے مذموم مقاصد کو خاک میں ملانے اور ہر قسم کی دہشتگردی روکنے کیلئے بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور ریاست مخالف عناصر کے زیروٹالرنس کی پالیسی پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی ذہن سازی سوشل میڈیا اور انکرپٹڈ ایپس کے ذریعے کی جا رہی تھی۔

ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے مقامی اور سرحد پار موجود شدت پسند ہینڈلرز کے درمیان رابطوں کے شواہد بھی حاصل ہوئے ہیں، جن کی بنیاد پر مزید تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ شدت پسند تنظیمیں پہلے نوجوان لڑکوں کو نشانہ بناتی رہی ہیں، تاہم اب کم عمر لڑکیوں کو بھی اپنے مذموم عزائم کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔

حکام کے مطابق بروقت کارروائی سے بڑے جانی نقصان اور ممکنہ تباہی سے بچاؤ ممکن ہوا۔ مقامی عمائدین نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خودکش حملے نہ صرف اسلام بلکہ انسانی اقدار کے بھی سراسر منافی ہیں۔

مقبول خبریں