عمران خان کی رہائی ان کے اپنے ہاتھ میں ہے، شرجیل میمن

ان کی پارٹی میں لیڈر شپ کی ریس لگی ہوئی ہے، پارٹی کو ان کی رہائی کے لیے فوکس رہنا چاہیے


ویب ڈیسک February 22, 2026

صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت اور طویل عمری کے لیے دعا گو ہوں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا دارومدار ان کے رویے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبے کے اسٹیشنز کو ری ڈیزائن کیا جا رہا ہے، دو ماہ سے نئی بسیں کسٹم میں رکی ہوئی ہیں، سیٹوں کی گنجائش کے لحاظ سے جتنی ڈیوٹی پنجاب پر ہے اتنی سندھ پر بھی لاگو کی جائے۔

پنجاب پر ایک فیصد جبکہ ہماری بسوں پر 17 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے، یکساں گنجائش کی بسوں پر ایک جیسی کسٹم ڈیوٹی لگائی جائے، یہ معاملہ عدالت اور کسٹم حکام کے سامنے بھی زیرِ بحث ہے، ریڈ لائن منصوبے میں رکاوٹیں آئیں جس سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا، عمران خان کی رہائی کا معلوم نہیں کب ممکن ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے مہینے میں عمران خان کی صحت اور طویل عمری کے لیے دعا گو ہوں، ان کی رہائی کا دارومدار ان کے رویے پر ہے، ان کی پارٹی میں لیڈر شپ کی ریس لگی ہوئی ہے، پارٹی کو ان کی رہائی کے لیے فوکس رہنا چاہیے، سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے حواری جس طرح اداروں کو نشانہ بناتے ہیں انہیں الفاظ کے انتخاب کو بہتر بنانا چاہیے۔

اختلاف جمہوریت کا حق ہے لیکن گالم گلوچ نہیں ہو سکتی، بڑے نامور اینکر بھی اسی طرز عمل کا اظہار کر رہے ہیں، لوگوں کی فیملیز اور بچوں کے لیے غلط الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، اس سوچ کو بہتر بنانے کا مشورہ دیتا ہوں، گورنر ہاؤس ایک آئینی ادارہ ہے جس کی ذمہ داری وفاق اور صوبے کے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں متنازعہ باتیں نہیں ہونی چاہئیں، فاروق ستار اپنے لیول کے مطابق بات کریں، وہ ایک مسکین آدمی ہیں، سنا ہے آج مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی کی صلح ہو گئی ہے، دو جماعتوں کے درمیان وعدے ہوئے جن میں سے کتنے پورے ہوئے ن لیگ کی لیڈر شپ کو سوچنا چاہیے، وفاقی حکومت کے فائر وال پراجیکٹ کا مقصد غلط باتوں کو روکنا اور اہم سائٹس کو ہیک ہونے سے بچانا تھا، زبان اور الفاظ کا استعمال اپنے ہاتھ میں ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ہم نے اپنی پارٹی میں غیر مہذب باتوں پر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، تحریک انصاف کے لوگ اپنے لیڈر سے محبت کریں، رہائی کی کوشش کریں لیکن گالم گلوچ نہ کریں۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ و اطلاعات نے پرانی سبزی منڈی کے قریب بی آر ٹی منصوبے کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت ہم ریڈ لائن بی آر ٹی کے سینٹر میں موجود ہیں، رمضان المبارک اور روزے کے باوجود ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں، ریڈ لائن بی آر ٹی مختلف چینلجز کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتی رہی، ان چیلنجز کے باوجود منصوبے کو جاری رکھنا بھی ایک چیلنج بن گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اگلے چالیس پچاس سال کی جنریشن کے لیے منصوبہ ہے، عید سے قبل سائیڈ کی سڑکوں کو مکمل کر لیا جائے گا، پیپلز چورنگی تک روڈ بہتر ہو جائے گا، اپریل تک 2.7 کلومیٹر کا کام مکمل کیا جائے گا، کراچی میں میگا پراجیکٹس چل رہے ہیں، شاہراہ بھٹو اپریل تک ایم نائن تک شروع ہو جائے گی، انڈر پاسز پر کام جاری ہے، سندھ حکومت ایف ڈبلیو او اور کے ایم سی کے ساتھ مل کر سڑکیں بنانے میں مصروف ہے۔

کچھ لوگ اس پر سیاست کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم ہر حال میں منصوبوں کو مکمل کریں گے، مہنگائی پاکستان کے ہر منصوبے پر آئی ہے، دو ماہ سے بسیں کسٹم میں رکی ہوئی ہیں، پنجاب نے بسوں پر ایک فیصد کسٹم ڈیوٹی چارج کی ہے جبکہ ہم پر 17 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

 

مقبول خبریں