کراچی:
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیرتعلیم ڈاکٹر خالد محمود صدیقی نے صوبائی حکومت کے اقدامات کو آئین کی خلاف ورزی گردانتے ہوئے سوال کیا ہے کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ 170 سیٹیں لینا والا جیل میں اور 80 والا حکومت میں ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایک اہم موڈ پر ہم داخل ہوگئے ہیں، ہم نے بھی اب فیصلہ کرنا ہے، ایک اسمبلی میں پاکستان کے آئین کے خلاف قرداد منظور ہوئی، ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں میں عوام کی جانب سے تمام مکاتب فکر سے سوال ہے، کیا کوئی بھی پاکستان کے آئین کے خلاف کوئی قراداد منظور کرسکتا ہے، سندھ اسمبلی میں منظور قراداد پاکستان کے خلاف ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جو سب ٹیکس دے اس کو کوئی اختیار نہیں ہے، مسائل کا حل مکالمہ ہے، پیپلز پارٹی نے کس خوف کی وجہ سے قراداد پیش کی، ایم کیوایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے، دھرتی ماں پاکستان ہے اور صوبے اس کے حصے ہیں۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب خواب ہی رہے گا، یہ کیسا انصاف ہے کہ 170 سیٹ لینے والا جیل میں ہے اور 80 والا حکومت میں ہے، ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جعلی مردم شماری کے ذریعے پیپلز پارٹی قابض ہے، کسی صوبے میں لسانیت کی بنیاد پر کیا تقسیم ملتی ہے، یہ قرارداد سندھو دیش کے خواب کو برقرار رکھنے کے لیے ہے، سندھ ملک کا امیر ترین صوبہ ہے، سب سے زیادہ ملک غربت بڑھی تو وہ سندھ صوبہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی مردم شماری فوج کی نگرانی میں کرائی جائے، درست مردم شماری ہوگئی تو سندھ کی قسمت بدل جائے گی، بھٹو صاحب کے آئین میں نئے صوبے بنانے کا اختیار ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی کی آبادی میں 33 فیصد کم گنا گیا، پاکستان کے حق کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو غداری کہہ کر دبایا جاتا ہے، ایم کیوایم کا کوئی اقدام پاکستان کے خلاف نہیں، ایم کیوایم کے بانی نے ایک نعرہ لگایا تو ہم نے اس کو چھوڑ دیا اور ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کو صوبے کے حوالے سے ہم نے قبول کیا ہوا ہے، 72 سال قبل کوٹہ سسٹم لگایا گیا تھا، کوٹے کے تحت کبھی کسی ہاری کو تعلیم نہیں ملی، پاکستان میں سب سے زیادہ غربت سندھ میں بڑھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاق سے سندھ کو 30ہزار ارب روپے ملے ہیں، ان 30 ہزار ارب میں سے آدھے تو کراچی کو ملنا چاہیے تھا، وفاق سے ملنے والی رقم لگتا ہے حکومت سندھ عیاشی پر خرچ کرتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ افواج پاکستان سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں مردم شماری کرائیں، پاکستان کی تاریخ 47 سے شروع ہوتی ہے لیکن پاکستان کے مختلف علاقوں کی تاریخ تو ہزاروں سال پرانی ہے، پاکستان کے آئین میں صوبے بنانے کا ذکر موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیسی پارٹی ہے جو اپنے لیڈر کے بنائے آئین کے خلاف قراداد اسمبلی میں پیش کرتی ہے، اب بات آگے بڑھے گی، پیپلز پارٹی بھٹو کے نام پر کھاتی اور کماتی ہے۔
خالدمقبول صدیقی نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین جو کہ ایک زندہ دستاویز ہے اس پر مکمل عمل کیا جائے، پاکستان کے آئین کا آرٹیکل (4)239 نئے صوبے بنانے کی اجازت دیتا ہے لیکن پیپلز پارٹی اپنے ہی بانی کے آئین سے روگردانی کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے ہی میئر کو اختیارات دینے کو تیار نہیں۔