افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے اس حوالے سے فیکٹ چیکٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔
افغان طالبان کا دعویٰ
افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ ایک فضائی حملے میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے قائم ’امید اسپتال‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حقائق سامنے آ گئے
- وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہ ایک عسکری تنصیب تھی، نہ کہ کوئی فعال اسپتال۔
- حکام کا کہنا ہے کہ اصل ’امید اسپتال‘اس مقام سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے۔
- دستیاب تصاویر کے مطابق اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بننے والا مقام کنٹینرز اور عارضی ڈھانچوں پر مشتمل تھا۔ نشانہ بننے والے مقام پر اسلحہ اور بارود موجود تھا۔
متنازع پہلو
افغان طالبان کے دعوے اور پروپیگنڈے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ:
- اگر یہ مقام واقعی بحالی مرکز تھا، تو وہاں عسکری سرگرمیوں کی موجودگی ایک اہم سوال اٹھاتی ہے۔
- دوسری جانب سرکاری مؤقف بھی مکمل طور پر غیر جانبدار بین الاقوامی تصدیق سے نہیں گزرا۔
مبینہ اے آئی پروپیگنڈا
ایک سرکاری افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے متعلقہ ویڈیو اور پوسٹ کو بعد میں حذف کیا گیا ہے، جس کی کوئی ٹھوس اور واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر غلط معلومات پر مبنی پوسٹ تھی، جس سے اس کی صداقت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
علاوہ ازیں مبینہ طور پر ویڈیو اے آئی (مصنوعی ذہانت) سے بنائی گئی تھی، جو فیکٹ چیکٹ اور تصدیق کے آزاد ذرائع پر دباؤ کا سامنا نہ کر سکی اور افغان حکام کو اسے ڈیلیٹ کرنا پڑا۔