امریکن شاعر اور فلاسفر رالف والڈو ایمرسن سائنس کو منظم علم کا درجہ دیتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ انسان کے معلوم کرنے کا اشتیاق ہی سائنس کی بنیاد رہا ہے۔ آج کل ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، اسے ہم عصر جدید کا نام دیتے ہیں۔ یہ دور سائنس و ٹیکنا لوجی کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ شکل انفارمیشن ٹیکنالوجی یا انفارمیشن انجینئرنگ کا ہے، یعنی جسے عرف عام میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی وہ واحد شعبہ ہے جس نے جدید سائنس و ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے اس میدان میں منفرد کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اسے بلندیوں کی اوج تک پہنچا دیا۔ دور حاضر کی ترقی یافتہ انفارمیشن ٹیکنالوجیز میں کلاوڈ کمپیوٹنگ، سائیبر سیکیورٹی، ڈیٹا انالیسز اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کا شمار و اندراج پہلے نمبر پرآتا ہے۔ اس کی ایجا د اور اس کے ہمارے معاشرے میں اطلاق نے ہر ذی شعور اور جدید سائنسی علوم کے متلاشی انسان کو نہ صرف حیرانی میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کر دیا ہے،یعنی یوں کہیے کہ ہر سیکنڈ اور منٹ میں ٹیکنالوجی میں تیز رفتاری کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت جسے ہم فرنگیانہ لسان میں Artificial Intelligenceیعنی AIکہتے ہیں۔ یہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک اہم شعبہ ہے جس کا بنیادی مقصد ایسی مشینیں اور کمپیوٹر نظام تیار کرنا ہے جو انسانی ذہانت کی طرح سوچ سکیں اور سیکھ سکیں یعنی روبوٹک ٹیکنالوجی۔ مسائل حل کرنے اور فیصلے صادر کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت ہماری روز مرہ زندگی کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اس کی ترقی و ترویج اور اس کے ہمارے معاشرہ میں موثر اور مثبت انداز میں اطلاق کے لئے مختلف فورم پر معلومات پر مبنی کانفرنس، سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کا سلسلہ الحمدللہ جاری و ساری ہے۔ گزشتہ ماہ کراچی شہر کا و معروف اورمعیاری تعلیمی ادارہ ”شاہ ولایت ایجوکیشنل ٹرسٹ“ کے زیر اہتمام مصنوعی ذہانت کے موضوع پر شاہ ولایت پبلک اسکول واقع فیڈرل بی ایریا کراچی میں منعقد ہو ا، جس کا عنوان کچھ یو ں تھا۔ Rethink School Education with AI جستجو۔ یعنی ’’مصنوعی ذہانت کے ساتھ تعلیم پر از سر نو غور“۔چار سیشنز پر مشتمل اس منعقدہ کانفرنس کے استقبالی کلمات ٹرسٹ کے منیجنگ ٹرسٹی سید انور سعید نے نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیے جبکہ اسکول کا سیر حاصل تعارف پرنسپل محترمہ ندرت امام نے پیش کیا۔اسکول ہٰذا کے سا بقہ طالبعلم اور ڈپٹی کمشنر وسطی ٰ طحہ سلیم اور سابقہ طالبہ پبلک اسکول اینڈ کالج کی وائس پرنسپل محترمہ نا جیہ رضا نے خصوصی طور پر بطور مہمانان اعزازی شرکت کی۔علاوہ ازیں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے اہم پروفیشنلس اور تعلیمی اداروں سے منسلک اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔
متذکرہ کانفرنس کے اختتامی سیشن میں مہمان خصوصی بینک آف پنجاب کے چیف ایگزیکٹو اور پاکستان بینکنگ ایسو سی ایشن کے چیئر مین ظفر مسعود تھے، جنہوں نے اپنے وسیع مطالیاتی اور عملی تجربہ کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت جیسے حساس موضوع پر معلوماتی مواد شرکائے کانفرنس کو فروگذاشت کیا۔ٹرسٹ کے قیام کے پس منظر میں یہاں کچھ عرض کر نا چاہو ں گا۔شاہ ولایت ایجوکیشنل ٹرسٹ ہٰذا کا تصور انجمن سادات امروہہ کراچی نے 1980 میں پیش کیا اور یوں یہ ٹرسٹ 16 دسمبر 1981 کو باضابطہ طور پر رجسٹر ڈ کیا گیا۔ بعد ازاں اسے سینٹرل بورڈ آف ریوینیو کی جانب سے انکم ٹیکس آرڈیننس 1979 کی سیکشن 47 کے تحت 1986 میں ایک غیر منافع بخش عوامی فلاحی ادارے کے طور پر منظور کیا گیا۔ ٹرسٹ کے زیر انتظام اس وقت دو تعلیمی درسگاہیں شاہ ولایت پبلک سکول، فیڈرل بی ایریا اور دوسرا سادات امروہہ کو آپریٹو سوسائٹی،ا سکیم 33 کراچی محترمہ کلثوم زہرہ کی پرنسپلی میں تعلیم کے شعبے میں اپنی بھر پور کارکردگی پیش کر رہے ہیں۔
اے آئی کے حوالے سے گذشتہ ماہ یعنی فروری میں حکومتی سرپرستی میں اسلام آباد میں مصنوعی ذہانت سے متعلق انڈس اے آئی کا ہفتہ منایا گیا جس کا وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے جناح کنونشن سنٹرمیں باقاعدہ افتتاح کیاجس میں انھوں نے 2030 تک مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں لگ بھگ ایک ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اے آئی میں پی ایچ ڈی کے لیے ایک ہزار وظائف دینے، آئی ٹی اور اے آئی کے حوالے سے استعداد میں اضافے کے لیے قومی سطح پر پروگرام شروع کر نے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی بڑی آبادی مصنوعی ذہانت کی تربیت دے کر ملک کی زراعت، صنعت، تجارت سمیت دیگر شعبہ جات میں انقلاب لایا جا سکتا ہے اور پاکستان اقوام عالم میں نمایاں مقام پیدا کر سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی ابتدا ئی پس منظر سے متعلق مختلف دستیاب فورمز سے پتا چلتا ہے کہ یہ تصورسب سے پہلے 1950 کی دہائی میں اس وقت پیش آیا جب مشہور سائنس دان Alan Turing نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا مشینیں سوچ سکتی ہیں؟ بعد ازاں 1956میں ایک باقاعدہ کانفرنس کے دوران اے آئی کی بنیاد رکھی گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ کمپیوٹرز کی رفتار اور ڈیٹا کی دستیابی میں اضافے نے اس میدان کو تیزی سے ترقی دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج مصنوعی ذہانت کا استعمال مختلف شعبہ ہائے زندگی یعنی صحت، تعلیم، کاروبار اور آمدورفت یعنی ٹرانسپورٹ میں دن بدن بڑھتا جا رہا ہے جو نہ صرف وقت اور محنت کی بچت، درست اور تیز رفتار فیصلے، پیچیدہ مسائل کا جلد اور مثبت حل بلکہ پیداواری صلاحیت میں اضافے کا سبب بھی بن رہے ہیں، مگر اس ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار سے بے روز گاری میں اضافہ، پرائیویسی کے مسائل اور اس کے غلط استعمال کے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔
حال ہی میں سائنس دانوں نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے کہ سمندر کی سب سے بڑی مخلوق اسپرم وہیل دراصل اپنی ایک زبان میں بات چیت کرتی ہے اور یہ زبان انسانی بول چال سے مشابہ ہے۔ امریکی تحقیقی منصوبے سی ای ٹی آئی (CETI)کے ما ہرین نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے وہیل مچھلیوں کی آوازوں کا تجزیہ کیا اور پتا چلایا کہ یہ مخلوق ایک دوسرے سے بات کرتے وقت مخصوص ٹک ٹک یا کلک جسیی آوازیں نکالتی ہے جو مورس کوڈ سے ملتی جلتی ہیں۔ اس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت انسانی تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے کیوں کہ اب پہلی بار یہ امکان پید ا ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے وہیل مچھلیوں کی زبان کا مکمل ترجمہ کیا جا سکے یعنی آنے والے وقت میں انسان اور وہیل مچھلیوں کے درمیان براہ راست گفتگو ممکن ہو سکے گی۔
ان تجزیات اور تجربات کے نتائج کی روشنی میں بظاہر یہ ٹیکنالوجی مستقبل قریب میں نہایت روشن نظر آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں اے آئی انسانی زندگی کے ہر شعبے میں مزید اہم کردار ادا کرے گی، تاہم اس کے ذمہ دارانہ استعمال اور اخلاقی اصولوں کی پابندی بے حد ضروری ہے تاکہ اس کے فوائد زیادہ اور نقصانات کم ہوں۔ بلاشبہ مصنوعی ذہانت جدید دور کی ایک انقلابی ایجاد ہے جو دنیا کو تیزی سے بد ل رہی ہے، اگر اسے دانشمندی اور احتیاط سے استعمال کریں تو یہ انسانیت کے لیے بے شمار آسانیاں پید کر سکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف موجودہ دور کی ضرورت ہے بلکہ مستقبل کی کامیابی کی کنجی اور پائیدار ضمانت بھی ہے۔