عدالت کا متوفی کوٹہ پر شہری کو تقرری لیٹر جاری کرنے کا حکم

موزوں اسامی فراہم کرنا محکمہ کی ذمہ داری ہے، سندھ ہائی کورٹ


کورٹ رپورٹر April 04, 2026
فوٹو: فائل

کراچی:

سندھ ہائی کورٹ نے متوفی کوٹے پر شہری کو تقرری کا لیٹر جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

محکمہ بلدیات میں متوفی کوٹہ پر ملازمت فراہم نہ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے درخواست گزار کو ایک ماہ میں تقرری کا لیٹر جاری کرنے کا حکم جاری کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ محکمے  کی جانب سے 6 برس تک درخواست پر فیصلہ نہ کرنا ناقابل قبول ہے۔

وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کے والد محکمہ بلدیات میں دوران ملازمت انتقال کرگئے تھے۔ درخواست گزار زین احمد  کی جانب سے 2020 میں مرحوم کوٹہ پر ملازمت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کی طلب کی گئی جونیئر کلرک کی اسامی خالی نہیں ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ سندھ سول سرونٹس رولز 1974 کے تحت درخواست گزار کو متوفی کوٹہ پر ملازمت کا حق حاصل تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ کوٹہ ختم کیا جاچکا ہے، تاہم طے شدہ اصول ہے کہ ایسے حقوق جو پہلے ہی پیدا ہوچکے ہوں، وہ ختم نہیں ہوتے۔

فیصلے میں  مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق ملازمت کا حق والد کی وفات کے وقت ہی پیدا ہو جاتا ہے۔ بعد میں قانون میں تبدیلی اس حق کو متاثر نہیں کرتی۔ قانون کے تحت گریڈ 1 سے 11 تک کسی بھی مناسب اسامی پر تقرری کی جا سکتی ہے۔ موزوں اسامی فراہم کرنا محکمہ کی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ محکمہ ایک ماہ میں درخواست گزار کو مناسب اسامی پر تقرری کا لیٹر جاری کرے۔