بالاخر پاکستان کی مخلصانہ اور شبانہ روز ثالثی کی کوششیں رنگ لے آئیں، امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے لیے جنگ بند ہوگئی ہے۔ آبنائے ہرمز دو ہفتوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔ اسرائیل بھی دو طرفہ جنگ بندی پر آمادہ ہوگیا ہے۔ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونے کا اعلان کیا گیا مگر اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان پر پھر شدید حملہ کر دیا۔ جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 100ڈالر فی بیرل سے یکدم نیچے آگئیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں آج (جمعہ) کو باضابطہ بات چیت کا آغاز ہوگا تاکہ ہر دو جانب سے دی گئی تجاویز پر غور و خوص کے بعد فریقین کسی حتمی نتیجے پر پہنچ کر باقاعدہ معاہدہ کرسکیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی صبح 5 بجے تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران معاہدے پر راضی نہ ہوا تو مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد ایران کے سویلین انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیں گے، پلوں اور بجلی گھروں کو اڑا دیں گے۔
ایران میں قیامت برپا کردیں گے، ایرانی تہذیب کو ختم کردیا جائے گا، تاہم ڈیڈ لائن ختم ہونے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ قبل صدر ٹرمپ نے یہ اعلان کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملوں کو دو ہفتوں کے لیے موخر کرنے پر آمادہ ہیں بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے، بقول صدر ٹرمپ یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی کیوں کہ امریکا اپنے تمام اہداف حاصل کرچکا ہے ۔ بعینہ ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے پر کافی حد تک پیش رفت ہوچکی ۔ صدرٹرمپ نے بتایا کہ انھیں ایران کی جانب سے 10نکات پر مبنی تجاویز موصول ہوچکی ہیں جو مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکا اور ایران کے مابین زیادہ تر اختلافی نکات پر اتفاق ہوچکا ہے اور آیندہ جنگ بندی کی دو ہفتوں کی مہلت معاہدے کو حتمی شکل دیتے ہی معاون و مددگار ثابت ہوگی۔ادھر ایران نے بھی پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویزکو باضابطہ طور پر قبول کرلیا ہے اور ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جنگ بندی کی منظوری دے دی ہے جس کے نتیجے میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے خلاف اپنی تمام عسکری کارروائیاں فوری طور پر روک دی ہیں۔اب امریکا ایران جنگ بندی کے بعد اگلا اہم ترین مرحلہ فریقین کے درمیان اتفاق رائے سے دی گئی تجاویز کی روشنی میں معاہدہ طے پانے کا ہے۔
ایران نے امریکا کو جو 10نکاتی تجاویز بھیجی ہیں ان میں ایران پر دہائیوں سے عائد معاشی پابندیوں کے خاتمے، جنگ میں ہونے والے نقصانات کے ازالے یعنی ہرجانے کی ادائیگی ، اپنی سہولت اور ضرورت کے مطابق یورینیم افزودگی کی اجازت ، ایران کے منجمد کیے گئے تمام اثاثوں کی واپسی، آبنائے ہرمزکے حوالے سے ایرانی فوج کے تعاون سے راہداری کے معاملات طے کرنا، خطے کے تمام ممالک سے امریکی فوج کے انخلا سمیت دیگر نکات شامل ہیں۔ جن پر باضابطہ پاکستان کی میزبانی میں بات چیت کا آغاز آج سے اسلام آباد میں ہوگا۔ مذاکرات کی کامیابی اور ممکنہ معاہدے کا انحصار افہام و تفہیم ، اتفاق رائے اور کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہے۔ فریقین کو لچک دار رویہ اختیار کرتے ہوئے خطے کے امن کو ترجیح دینا چاہیے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو صدر ٹرمپ معقول قرار دے چکے ہیں، لہٰذا امریکا پر زیادہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بڑا پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ معاہدہ کو کامیاب بنانے میں ایران سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کریں تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوسکے۔پوری دنیا میں جنگ بندی معاہدے کو سراہا جارہا ہے اور پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف کی جارہی ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بطور خاص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پس پردہ کاوشوں کو تحسین کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی قیادت نے ایران امریکا جنگ بندی میں عالمی سطح پر زبردست کامیابی حاصل کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ نہ صرف جنگی میدان میں بھارت جیسے بڑے ملک کو شکست دے سکتے ہیں بلکہ سفارتی محاذ پر دنیا کی سپر پاور امریکا کو بھی جنگ سے باز رکھنے کے لیے قائدانہ کردار ادا کرسکتے ہیں۔ امریکا ایران جنگ بندی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کامیابی سے امن معاہدے کی تشکیل پاکستانی قیامت کے لیے اگلا امتحان ہے جس میں یقیناً وہ سرخرو ہوں گے۔