جوہری پروگرام پر ایران کا منطقی استدلال

ایران کے ساتھ ایٹمی معاملات کے تصفیہ اور اس کے پر امن ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک ہولناک داستان گھڑی گئی


Editorial August 18, 2014
ایران کے ساتھ ایٹمی معاملات کے تصفیہ اور اس کے پر امن ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک ہولناک داستان گھڑی گئی. فوٹو:فائل

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے ایٹمی پروگرام پر آئی اے ای اے کی طرف سے مقرر کردہ بین الاقوامی قوانین کے علاوہ کسی پابندیوں کو قبول نہیں کرے گا۔ ہم صرف عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے فریم ورک کے اندر اندر آئی اے ای اے کے قانونی کنٹرول کو قبول کریں گے کیونکہ ان قوانین سے باہر نگرانی تمام ترقی پذیر ممالک کے خلاف ایک مثال بن جائے گی۔

ایرانی صدر کا استدلال اپنی ایک منطقی بنیاد رکھتا ہے کیونکہ عراق کے پاس بڑے پیمانہ پر ہلاکت خیز ہتھیاروں کا شور و غل مچا کر امریکی اور مغربی میڈیا نے عراق کی ایک نہیں دو بار اینٹ سے اینٹ بجادی جب کہ اسرائیل کی ایٹمی تنصیبات اور خفیہ تجربات کے لیے کسی قسم کے ایٹمی معائنے اور عالمی ادارہ کی جانب سے سخت ترین پابندیوں کا کوئی اقدام نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے فرضی کہانیوں اور اس کے ایٹمی ہتھیاروں کے دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کے بے بنیاد خدشاتی افسانے اور خود ساختہ رپورٹیں عالمی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔

ایرانی خبررساں ادارے''ارنا کے مطابق آئی اے ای اے کے صدر یو کی امانو 25 اگست کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ایرانی ایٹمی پروگرام پر ماضی میں لگائے جانے والے الزامات پر گفتگو کے لیے اتوار کو ایران پہنچے ۔ اس موقعے پر انھوں صدر روحانی سے ملاقات کی جب کہ اس سے قبل انھوں نے ایرانی وزیر خارجہ جاوید ظریف سے تبادلہ خیال کیا ، بعدازاں وہ علی اکبر صالحی، ایرانی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ کے ساتھ بھی ملے۔

ایران کے ساتھ ایٹمی معاملات کے تصفیہ اور اس کے پر امن ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک ہولناک داستان گھڑی گئی، جس کا ایرانی قیادت نے اپنے سینئر مذاکرات کاروں کے ساتھ عالمی قوتوں کی مشترکہ بات چیت اورجوہری پروگرام پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے کے معائنہ کاروں کا ہمیشہ خیرمقدم کیا اور دنیا کو باوور کرایا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن اور ایران کے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف صرف اور صرف اقتصادی شعبہ اور توانائی کی ضروریات کی تکمیل سے مشروط ہے۔

آئی اے ای اے کے صدر امانو نے کہا کہ ایران کی طرف سے ماضی میں اپنے پروگرام کے متعلق فراہم کی جانے والی معلومات حالیہ وضاحتوں سے مختلف نہیں ہے امانو نے امید ظاہر کی کہ روحانی کے ساتھ ان کے مذاکرات زیادہ تعمیری ماحول میں رہیں گے ۔ روحانی نے ایک مرتبہ پھر زور دے کر کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے اور ایرانی دفاعی حکمت عملی میں بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔

انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ بات چیت ایرانی عوام کے لیے ضروری اعتماد دے گی اور ایران مذاکرات میں سنجیدہ ہے اور پرامن مقاصد کے لیے یورنیم افزودگی کے متعلق اپنے حق سے زیادہ نہیں چاہتا ۔ ایرانی صدر نے اپنی پوزیشن شرح صدر کے ساتھ واضح کردی ہے اس پر آئی اے ای اے کو اعتبار کرنا چاہیے۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ ایران کے گرد کبھی معائنہ جاتی حصار تنگ کرنے کی بات ہوتی ہے اور کبھی اس کے پورے ایٹمی پروگرام کو مشتبہ ،اور عالمی امن کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے جو امتیازی اور دوعملی کی ناقابل یقین پالیسی ہے ۔