رکن سندھ اسمبلی فرحان انصاری نے اسکیم 33 میں نالے پر مبینہ قبضے اور رہائشی اسکیم بنانے کے منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فرحان انصاری نے عباس ٹاؤن کے قریب نالے کی زمین پر تجاوزات کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے میئر کراچی آفس، کمشنر کراچی اور دیگر متعلقہ اداروں کو خط ارسال کیا ہے۔
خط کے متن کے مطابق نالے پر قبضہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ شہریوں کے لیے سنگین خطرات بھی پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ اس سے سیلابی صورتحال کا خدشہ بڑھ جائے گا اور علاقے کا سیوریج نظام مزید خراب ہو سکتا ہے۔ رہنما ایم کیو ایم نے خبردار کیا کہ اس طرح کی سرگرمیاں انتظامی مسائل اور شہری انفراسٹرکچر پر دباؤ کا باعث بنیں گی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ڈپٹی کمشنر ایسٹ فوری ایکشن لیں اور نہ صرف قبضہ ختم کروائیں بلکہ اس میں ملوث افراد اور ممکنہ طور پر سہولت کاری کرنے والے افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ خط میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ اس سے قبل بھی نالے کے کچھ حصے پر قبضہ کر کے رہائشی منصوبہ بنایا جا چکا ہے اور اب مزید زمین پر قبضے کی تیاری کی جا رہی ہے، جو شہریوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔