پاک چین دوستی کا سبق!

مشاہد حسین سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین تیزی سے ایک سائنسی سپر پاور کے طور پر ابھر رہا ہے۔



گزشتہ ہفتے جامعہ کراچی میں ایک اہم کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس کا عنوان تھا۔

CPEC and Regional Connectivity from south Asia to Central Asia:Challenges and Opportunities

 اس موقع پر شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی،رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید،کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ جامعہ کراچی کے پاکستانی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین خان، شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نعیم احمد،مشیر امور طلبہ ڈاکٹر نوشین رضا نے جب کہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے چینی ڈائریکٹر پروفیسر ژانگ شاؤپنگ اور چیئرمین پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد، مشاہد حسین سید نے(آن لائن) خطاب کیا جس میں پاک چین کے تاریخی تعلقات اور علاقائی روابط، سی پیک اور بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔

کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ جامعہ کراچی کے پاکستانی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین خان نے اپنے خطاب میں بتایا کہ جامعہ کراچی میں قائم کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ پاکستان میں ایک نمایاں اور فعال ادارے کے طور پر ابھرا ہے، جو چینی زبان کے ساتھ ساتھ چینی ثقافت کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت اس ادارے میں 2500 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن میں سندھ صوبے کے معروف سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں اور تجارتی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

بی ایس چار سالہ چینی زبان پروگرام اس ادارے کا نمایاں پروگرام ہے، بنیادی طور پر اس ادارے کا مقصد یہ ہے کہ چینی زبان سیکھنے کے خواہش مند افراد کو تعلیم فراہم کی جائے اور انھیں پاکستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں چینی کمپنیوں میں کیریئر کے مواقع حاصل کرنے میں مدد دی جائے۔

اس شعبے کے طلبہ کے لیے تدریس، تعلیمی انتظامیہ، تحقیق، ترجمہ و ترجمانی، میڈیا اور بین الاقوامی تجارت جیسے شعبوں میں بہترین روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ اس موقع پر کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے چینی ڈائریکٹر پروفیسر ژانگ شاؤپنگ نے کہا کہ یہ ادارہ جامعہ کراچی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے، جو تعلیمی معیار کی بہتری، طلبہ کی تربیت اور بین الثقافتی روابط کے فروغ میں مسلسل کردار ادا کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاک چین دوستی کے 75 برس ایک تاریخی سنگ میل ہیں، جن کے دوران دونوں ممالک نے مشترکہ ترقی اور اسٹرٹیجک شراکت داری کو فروغ دیا۔

مشاہد حسین سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین تیزی سے ایک سائنسی سپر پاور کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تقریباً 40 فیصد تحقیقی مقالے چین سے شائع ہو رہے ہیں، جب کہ دنیا کے سرفہرست سائنسی اداروں میں نمایاں تعداد چین میں قائم ہے، جو عالمی علمی توازن میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس پروگرام کے تمام مقررین کے خیالات سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ چین ایک جانب عالمی سطح پر سب سے نمایاں قوت بن کر ابھر رہا ہے جس سے پاکستان اور پاکستانی عوام کو بھی آگے بڑھنے میں مدد مل رہی ہے اور چین کے ساتھ اچھے تعلقات کے سبب پاکستان ان سے فائدہ بھی اٹھا رہا ہے، جن میں سے ایک کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ جامعہ کراچی بھی ہے جہاں سے طلبہ چینی زبان میں مختلف کورسز اور ڈگریاں حاصل کرکے ایک بہتر مستقبل کا انتخاب کر رہے ہیں۔ گو کہ ہمیں ابھی اس دوستی سے مزید فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے جیسا کہ اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الجامعہ کراچی ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ چین ہمارا اچھا دوست تو ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اس دوستی سے کیا سیکھا؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ چار دہائیوں میں چین نے تیز رفتار ترقی کی ہے، ایک زرعی معیشت سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننے تک کا سفر چین کی منصوبہ بندی، صنعتی پالیسی، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔ آج چین عالمی تجارت، صنعت، انفرا اسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نمایاں طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ چین کی ترقی کا بنیادی ستون اس کی معاشی اصلاحات 1978 ہیں، ان اصلاحات کے تحت نجی شعبے کو فروغ دیا گیا، غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی اور خصوصی اقتصادی زون قائم کیے گئے یوں ایک ایسا وقت آیا کہ1980 میں چین جس کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) تقریباً 191 ارب ڈالر تھی،2024 میں بڑھ کر 17 ٹریلین ڈالر سے زائد پہنچ گئی۔اس وقت چین دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک بن چکا ہے۔

یہ ترقی صنعتی پیداوار، برآمدات اور انفرا اسٹرکچر میں مسلسل سرمایہ کاری کی بدولت ممکن ہوئی۔چین نے صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کی ہے۔آج چین دنیا میں الیکٹرانکس، موبائل فون، گاڑیاں اور مشینری بنانے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔چین مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس اور 5G ٹیکنالوجی میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔چین نے سڑکوں، پلوں، بندرگاہوں اور ریلویز کے وسیع منصوبے مکمل کیے ہیں۔ اس کی تیز رفتار ریل سروس دنیا کی سب سے بڑی ہے۔چین میں 40,000 کلومیٹر سے زائد ہائی اسپیڈ ریلوے نیٹ ورک موجود ہے۔

چین نے عالمی سطح پر تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے Belt and Road Initiative شروع کیا، جس کے تحت ایشیا، یورپ اور افریقہ میں بڑے انفرا اسٹرکچر منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔چین کی اس سب ترقی کا ایک اہم راز یہ بھی ہے کہ عالمی سطح پر اس نے اپنا سیاسی کردار کافی حد تک پر امن پالیسی پر رکھا جس کے سبب چین کو ترقی کرنے کے لیے پر امن ماحول ملتا چلا گیا لیکن یہاں ہمارے لیے پھر سوال ہے کہ ہم نے اس دوستی سے کیا سیکھا؟ اس ضمن میں جب ہم اپنے اوپرنظر ڈالتے ہیں تو کافی خراب صورتحال نظر آتی ہے ۔مثلاً پاکستانی مارکیٹ میں دیکھیں تو چائنہ مال ہر طرف بھرا نظر آتا ہے، لوڈ شیڈنگ ہمارا ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔

اس مسئلے میں اگر کوئی ہمارا سہارا ہے تو وہ چائنہ کی چھوٹی بڑی ایجادات ہیں۔ چائنا کی ٹارچ، چائنہ کے چھوٹے پنکھے ہیں اور چائنہ کی انرجی والی بہت ساری دیگر چیزیں ہیں جو ہمیں اس مسئلے سے دن رات نجات دلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے ایک جانب تو بجلی کے بحران کو حل نہیں کیا تو دوسری جانب ہماری جامعات میں تحقیق کے حوالے سے صورتحال یہ ہے کہ اس ضمن میں کوئی آؤٹ پٹ بھی نہیں ہے۔

ہماری انجینئرنگ یونیورسٹیز چھوٹے چھوٹے بیٹری فین، ٹارچ وغیرہ بھی نہیں بنا سکیں جو مارکیٹ میں عوام کے لیے دستیاب ہوں۔ مسئلہ اور بحران ہمارا ہے اور چین نے یہ مسئلے حل کیے، ہم چائنہ سے یہ چیزیں خرید رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے کہ ہماری جامعات بھی کوئی آؤٹ پٹ نہیں دے رہی ہیں اور حکومتی سطح پر بھی کوئی منصوبہ بندی سامنے نہیں آرہی ہے ، سوائے ایسی پالیسی کہ عوام لوڈ شیڈنگ سے تنگ آکر سولر پینل لگائیں اور حکمران اس کے استعمال پر ٹیکس لگا دیں۔

کبھی کچھ منصوبہ بندی سامنے آتی ہے تو وہ بھی سیاسی حکومتوں کی نذر ہو جاتی ہے یعنی حکومت کی تبدیلی کے ساتھ منصوبے بھی تبدیل یا پھر بند۔ایسی صورتحال میں ہم کیسے ترقی کر سکتے ہیں؟چین کی دوستی سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ ہم بھی اپنے مسائل کو خود حل کریں اور ہماری جامعات بھی اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔ چین کی بے شمار جامعات عالمی رینکنگ میں اپنا مقام رکھتی ہیں لیکن ہم سب سے نیچے نظر آتے ہیں یہی وہ فرق ہے جس کو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف ہمارا میڈیا اس میں کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ کیا کبھی اپنے میڈیا پر ہم نے عشق اور عاشقی کے علاوہ کوئی ایسا ڈرامہ دیکھا کہ جس میں ہمارے طلبہ کو اور آگے بڑھنے کی جانب کوئی پیغام دیا جا رہا ہو؟ ان کی ہمت افزائی کی جارہی ہو؟ کوئی بھارتی گلوکارہ مرجائے تو شور مچ جاتا ہے لیکن کوئی طالب علم پوزیشن بھی حاصل کرلے تو کوئی نام نہیں لیتا ۔ ایسی صورتحال میں شیخ الجامعہ کراچی، پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کی یہ بات قطعی درست ہے کہ ہمیں چین سے دوستی پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے کچھ سبق بھی حاصل کرنا چاہیے۔