پاکستان کے داخلی مسائل کے چیلنجز

پاکستان کا داخلی چیلنج ایک بڑے نقطہ کی حیثیت رکھتا ہے۔


سلمان عابد April 28, 2026
[email protected]

پاکستان کا داخلی چیلنج ایک بڑے نقطہ کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ مسائل سیاسی ،انتظامی،معاشی ،قانونی، ادارہ جاتی،گورننس اورعام آدمی کی سطح پر ان کے باہمی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں ۔اس وقت قومی سطح پر ہمیں سات بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

اول، سیاسی اور جمہوری سیاست کا استحکام یعنی جمہوری اور سیاسی طرز عمل کی بنیاد پر آگے بڑھنا،دوئم، قانون اور آئین کی حکمرانی کے نظام کو مضبوط بنانا یا عدلیہ اور انصاف کی خود مختاری اور شفافیت کا نظام ،سوئم، ادارہ جاتی سطح پر عملی استحکام اور بنیادی نوعیت یا جدیدیت کی بنیاد پر تبدیلی کا عمل،چہارم، معاشی استحکام جو قومی معیشت کی خود مختاری اور شفافیت کو یقینی بناسکے، پنجم، سیکیورٹی یا دہشت گردی جیسے مسائل سے نمٹنا،ششم، جوابدہی ،نگرانی اور احتساب کا موثر نظام ،ہفتم، گورننس یا حکمرانی کے عملی بحران سے نمٹنا یا عام آدمی اور کمزور طبقات کے مفادات کو تحفظ دینا شامل ہیں ۔لیکن مسئلہ یہ ہے حکمران طبقات کی سیاسی ترجیحات میں ہمیں مختلف نوعیت کے تضادات اور ٹکراؤ دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ مسئلہ کسی ایک حکمران طبقہ کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہمارے تمام حکمران طبقات بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی بجائے پہلے سے موجود نظام کو برقرار رکھ کر ہی آگے بڑھنا چاہتے ہیں ، اسی عمل میں ان کے سیاسی اور ذاتی مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں ۔

پاکستان کا حکومتی نظام ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت ان داخلی سنگین مسائل پر توجہ نہیں دیتا اور لوگوں کی توجہ کو غیر ضروری مسائل کی سطح پر الجھا کر اپنے مفادات کی سیاست کو طاقت فراہم کرتا ہے۔ہماری مجموعی سیاست اور جمہوریت کا نظام نان ایشوز کی سطح پرچل رہا ہے اور جو لوگوں کے بنیادی نوعیت کے مسائل ہیں ان پر توجہ کا نہ ہونا یا ان پر منصوبہ بندی یا عملدرآمد کا فقدان ہم کو غالب نظر آتا ہے ۔جب آپ نظام کو ایک کنٹرولڈ نظام کی بنیاد پر چلانا چاہتے ہیں جہاں طاقت کے ارتکاز کی نچلی یا عوامی سطح پر منتقلی کسی سطح پر بھی آپ کی ترجیحات کا حصہ نہ ہو تو لوگ اس حکمرانی کے نظام میں اپنی قبولیت کو کیسے محسوس کرسکیں گے۔

مرکزیت پر مبنی نظام کبھی قوم کی ترجمانی نہیں کرسکتا اور اس کو مقامی سطح پر ایک خود مختاری پر مبنی مضبوط سیاسی،انتظامی اور مالی مقامی حکومتوں کا نظام درکار ہے جو نچلی سطح پر ان کے بنیادی نوعیت کے مسائل میں معاون ثابت ہو سکے۔یہ جو ہائبرڈ سطح کا نظام ہے جس پر سیاسی اور انتظامی یا معاشی اجارہ داری محدود سطح کے طبقہ تک ہے اس پر لوگ نظام یا موجودہ گورننس سے نالاں نظر آتے ہیں۔طاقت کی حکمرانی کا یہ نظام براہ راست عام اور کمزور طبقہ کے مفادات کے خلاف بھی ہے اور ان میں ایک ٹکراؤ کے عمل کو بھی پیدا کرتا ہے ۔یہ ٹکراؤ آگے جاکر لوگوں میں حکومت کے بارے میں ایک سخت ردعمل کی سیاست کو بھی پیدا کرتا ہے ۔

اس وقت لوگوں کے سامنے بڑھتی ہوئی مہنگائی، پٹرول،ڈیزل ،تیل ، بجلی یا گیس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ،انصاف کی عدم فراہمی ،صاف پانی کی فراہمی کا غیر موثر نظام، مہنگی تعلیم اور صحت کا نظام اور اسپتالوں سمیت تعلیمی نظام کے حالات، بے روزگاری ،معاشی عدم تحفظ، معاشی اجرت کی کمی یا اجرت کا نہ ملنا، ماحولیات سے جڑے مسائل ،خوراک کی کمی اور غربت میں اضافہ ، نقل و حمل کے مسائل ،کمزور لوگوں کی انصاف تک رسائی کا نہ ہونا ،نئی ملازمتوں کا پیدا نہ ہونا، بجلی اور گیس یا انٹرنیٹ کی لوڈ شیڈنگ جیسے امور ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا داخلی بحران کس نوعیت کا ہے ۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ہمیں حکومت کی سطح پر جو لانگ ٹرم ،مڈ ٹرم اور شارٹ ٹرم منصوبہ بندی درکار ہے یا سالانہ منصوبہ بندی اور بجٹ کو مختص کرنے یا بجٹ بنانے سے جڑے معاملات میں ہمیں ان مسائل کی گہرائی اور فکر مندی دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ جو بھی سیاسی ،معاشی اشاریے ہیں چاہے وہ داخلی یا عالمی سطح پر ہماری تصویر پیش کرتے ہیں اس میں کئی طرح کے ٹکراؤ دیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔یہ سوال اہم ہے کہ کیا حکومتوں کا نظام واقعی ایک شفاف نظام چاہتا ہے اور کیا اس کی ترجیحات میں کمزور افراد ہیں ۔اس سوال کا جواب کافی کمزور دیکھنے کو ملتا ہے اور یہ محض تصورات پر مبنی نہیں بلکہ جو سرکاری اعداد وشمار ہیں اس میں عام آدمی کی جو تصویر پیش کی جاتی ہے۔

اس میں کئی طرح کے تفریق کے پہلو نمایاں ہیں۔حکمرانوں کی ترقی کے دعوے ایک طرف اور دوسری طرف عوام کی سطح پر جو سچائی ہے اس میں جو تلخ حقیقتیں ہیں ان کو کیسے حکمرانی کے نظام میں سلجھایا جاسکے۔کیونکہ جب حکمرانی کا نظام خود اپنی اصلاح کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی ان پر کوئی بڑا سیاسی دباؤ ہے تو ایسے میں تبدیلی کا عمل کہاں سے شروع ہوگا۔اس وقت سیاست،جمہوریت،آئین اور قانون یا بنیادی حقوق سمیت شہری آزادیوں یا آزادی اظہار یا سول سوسائٹی کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس کی موجودگی میں شفاف حکمرانی کا نظام ممکن نہیں ہوسکے گا۔

ابھی ہم نے جنگ بندی کے حالات میں حکومت کی سطح پر چلائی جانے والی کفایت شعاری کی مہم کی جھلکیاں دیکھی ہیں اور اس جھلکیوں میں تضادات کا بڑا کھیل دیکھنے کو ملا اور جو حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات اور شاہانہ انداز حکمرانی ہیں اس میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں مل سکی۔ہم لوگوں کو مستقل بنیادوں پر سیاسی اور معاشی استحکام دینے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی نئی نسل کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں ۔ حکمران طبقات کے پاس معاشی ترقی کا کوئی خود مختار منصوبہ نہیں بلکہ اس کے مقابلے میں ہمارا معاشی انحصار دیگر ممالک کی سطح پر بڑھ رہا ہے۔قرضوں کے کھیل نے مجموعی نظام کو ایک ایسی معاشی دلدل میں دھکیل دیا ہے کہ ہم پریشان ہیں کہ کیسے اس بحران سے نکل سکیں گے ۔

اس بات پر گلہ کیا جاتا ہے کہ لوگ پاکستان سے اپنا پیسہ باہر لے کر جا رہے ہیں اور کہ لوگ اپنا سرمایہ پاکستان واپس لائیں ۔لیکن اول وہ کیونکر لائیں ان کے جو تحفظات ہیں ان کا کوئی جواب دینے کے لیے تیار نہیں اور دوسرا جب خود حکمران طبقات اپنا سرمایہ باہر سے نہیں لائیں گے تو دیگر لوگ کیسے لاسکتے ہیں ۔اسی طرح سے کاروباری طبقہ کو ہم کسی بھی طور پر ڈرا دھمکا کر معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے حالات بہتر نہیں بناسکیں گے۔ہمیں معیشت کی بہتری کے لیے ایک ایسا سازگار ماحول بنانا ہے کہ وہ کاروباری طبقات اور سرمایہ کاروں کو خود ترغیب دے کہ وہ یہاں سرمایہ کاری کریں۔ ہم بنیادی طور پر اصلاحات کے بغیر آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پرانے خیالات ،فرسودہ سوچ اور ذاتی مفادات کے درمیان رہ کر ہم مجموعی ترقی کے عمل کو آگے بڑھا سکیں جو کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہوگا۔ ہماری بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت اصلاحات دشمن ہیں وہ عام افرادکو ترقی دینے سے زیادہ اپنی ذاتی ترقی کے ایجنڈے تک محدود ہیں ۔

لوگوں کو ایک ایسے نظام میں جہاں انصاف اور برابری نہ ہو وہاں اس کی توجہ کا مرکز انصاف سے جڑے نظاموں سے ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھ جو سیاسی اور معاشی ناانصافی ہورہی ہے وہاں انصاف سے جڑے ادارے اسے انصاف دے سکیں گے۔لیکن انصاف کے ادارے بھی یہاں غیر فعال ہیں اور ہم نے جو نظام عدالتوں کا بنا دیا ہے اس پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔اس لیے حکمرانوں کو سوچنا ہوگا کہ وہ کس طرز پر نظام چلا رہے ہیں اور کیونکر اس نظام کی داخلی اور خارجی ساکھ پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ہمارا مقدمہ عالمی اور علاقائی سیاست میں بھی اسی صورت میں مضبوط ہوگا جب ہم لوگوں کے مفادات کے ساتھ جڑ کر اپنے داخلی نظام کو نہ صرف مضبوط بنائیں گے بلکہ اس کی ساکھ کو بھی ہر سطح پر قائم کیا جائے گا۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم اپنی عملی سیاسی جدوجہد کی سمت درست کریں اور ایک ایسا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کریں جو ہمیں ترقی کی طرف لے کر جاسکے ۔یہ ترقی محض طبقاتی بنیادوں پر نہ ہو بلکہ معاشرے کے تمام افراد اس ترقی کا حصہ ہوں اور برابری کی بنیاد پر ملک کو آگے بڑھایا جاسکے۔لیکن کیا ہم بطورحکمران اور طاقت ور طبقات اس بڑی تبدیلی کے لیے تیار ہیں اور اس تیاری کے لیے جو کچھ بڑے کام کرنے ہیں اگر ہم اس کو بنیاد بنا کر آگے بڑھیں تو کچھ بہتری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔