اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ کا اجلاس ناصر بٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف محکموں میں ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ، تنخواہوں کی ادائیگی اور تاخیر کا شکار ہاؤسنگ منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 3200 میں سے تقریباً 300 ملازمین کو ایڈجسٹ کر لیا گیا ہے جبکہ قریب 100 تاحال ایڈجسٹ نہیں ہو سکے، جس پر وزارت مذہبی امور نے مزید مہلت طلب کی اور کمیٹی نے اس مقصد کے لیے 10 دن کی مہلت دے دی۔
کمیٹی نے ایڈجسٹ کیے گئے ملازمین کو تنخواہیں نہ ملنے کا نوٹس لیتے ہوئے آئندہ اجلاس میں متعلقہ حکام کو طلب کر لیا۔
اجلاس میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت شہید ملت سیکرٹریٹ میں اسٹیٹ آفس کی خراب لفٹس کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جہاں سی ڈی اے حکام نے بحالی کے لیے 6 ماہ کا وقت مانگا اور کمیٹی نے یہ مہلت منظور کر لی۔
مزید برآں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے تاخیر کا شکار منصوبوں، خصوصاً اسکائی گارڈن اور گرین انکلیو ون پر بھی بحث ہوئی۔ ڈی جی ایف جی ای ایچ اے نے بتایا کہ 2009 میں شروع ہونے والا منصوبہ سپریم کورٹ اور نیب انکوائریوں، بعد ازاں کووڈ-19 اور بڑھتی لاگت کے باعث تاخیر کا شکار ہوا۔
منصوبے کی لاگت 5.5 ارب سے بڑھا کر 19 ارب کرنے کی تجویز دی گئی، تاہم ادارہ قانونی طور پر 7.5 ارب تک ہی ادائیگی کر سکتا ہے۔
مزید یہ کہ تقریباً 750 پلاٹس ایسے مقامات پر ہیں جہاں تعمیر ممکن نہیں۔ کمیٹی نے منصوبوں میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2002 سے شروع منصوبے اب تک مکمل نہیں ہو سکے اور کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ بعض اراکین نے سی ڈی اے میں تقرریوں پر بھی سوالات اٹھائے۔
اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ کے اجلاس کے دوران سرکاری تقرریوں اور انتظامی معاملات پر سخت سوالات اٹھائے گئے، جہاں ناصر بٹ نے ہدایت دی کہ یہ شکایات سامنے نہیں آنی چاہییں کہ سفارش یا تعلقات کی بنیاد پر ادائیگیاں یا فوائد دیے گئے ہوں۔
اجلاس میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے انتظامی ڈھانچے پر بھی سوالات اٹھے، اور سینیٹر بلال خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ادارے میں تعینات ممبر پلاننگ کی اہلیت پر تحفظات ہیں اور ان کے مطابق وہ نہ تو انجینئر ہیں اور نہ ہی آرکیٹیکٹ، جس پر کمیٹی میں تقرریوں اور میرٹ کے معیار پر مزید بحث ہوئی۔