وفاق نے گیس فراہم نہ کی تو عوام کے ساتھ مل کر احتجاج کریں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

گیس پیدا کرنے والے صوبے کو سپلائی نہیں دی جارہی، سی این جی اسٹیشنز اور صنعتیں بند ہونے کے قریب پہنچ گئیں، سہیل آفریدی


ویب ڈیسک May 01, 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ گیس کی اضافی پیداوار کے باوجود مقامی، کاروباری اور گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی بند ہے جس کی وجہ سے صنعتیں بند ہونے کے قریب پہنچ گئیں ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس کا دوسرا مقصد صوبے کے حقوق پر ڈاکے اور وفاق کی جانب سے مسلسل ناانصافی کے خلاف لائحہ عمل طے کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہونے کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے کمرشل سرگرمیاں اور سی این جی انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت قدرتی وسائل پر پہلا حق صوبے کا ہے مگر اس آئینی تقاضے پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا، خیبر پختونخوا 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ ضرورت 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے مگر اس کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا اپنی ضرورت سے زائد 250 ایم ایم سی ایف ڈی گیس وفاق اور دیگر صوبوں کو فراہم کر رہا ہے، اضافی پیداوار کے باوجود مقامی، کاروباری اور گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی بند ہے، وفاق کی جانب سے مسلسل امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے جس سے عوام میں بے چینی اور نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ این ایف سی شیئر، بقایاجات، گندم، گیس اور بجلی سمیت متعدد شعبوں میں خیبر پختونخوا کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے، پنجاب کی جانب سے گندم کی فراہمی روکی گئی ہے جبکہ وفاق وسائل کی منصفانہ تقسیم میں ناکام رہا ہے، خیبر پختونخوا گیس، بجلی، معدنیات اور جنگلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر کے ملک کی خدمت کر رہا ہے لیکن اس کے ساتھ امتیازی رویہ رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر گیس کا مسئلہ دو دن کے اندر حل نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت تمام سیاسی جماعتوں، عوام، بزنس کمیونٹی، تاجرون اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر بھرپور وفاق کے خلاف بھرپور احتجاج کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو صوبائی حکومت مزید سخت اقدامات اٹھائے گی۔