اسلام آباد:
سعودی وزارتِ حج نے کم عمر بچوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی واپس لے لی اور 15 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی ختم کرتے ہوئے پرانی پالیسی بحال کردی ہے۔
نئے احکامات کے مطابق 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کو حج کی اجازت دوبارہ دے دی گئی ہے، جس کے تحت پہلے مسترد ہونے والے ویزے دوبارہ پراسیس کردیے جائیں گے۔
وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے نئی ہدایات جاری کردی گئی ہیں، جس میں پاکستانی حجاج کے لیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور بچوں سے متعلق سہولت بحال ہوگئی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل حج پاکستان کی جانب سے جاری مراسلے میں عمر کی نئی حد سے متاثرہ درخواستیں دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت نے آج حج 2026 کے لیے عازمینِ کی عمر کے حوالے سے نئی اور سخت پابندی فوری طور پر نافذ کی تھی۔ مملکت کی جانب سے اچانک کیے گئے بڑے فیصلے کے مطابق 15 سال سے کم عمر بچوں کو رواں برس حج کی سعادت حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور آفس آف پلگرم افیئرز پاکستان (OPAP) کے مطابق سعودی حکام نے فیصلے سے آگاہ کیا تھا کہ 3 مئی 2026 کی رات 12:00 بجے کے بعد سے کسی بھی ایسی پرواز کو سعودی عرب میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی جس میں کوئی ایسا مسافر سوار ہو جس کی عمر 27 مئی 2026 (9 ذوالحجہ 1447ھ - یومِ عرفات) کو 15 سال سے کم ہو ۔
سرکاری مراسلے کے مطابق ایسے تمام عازمینِ حج جو اس عمر کے معیار پر پورا نہیں اترتے، ان کے حج ویزے فوری طور پر منسوخ کیے گئے تھے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے تمام ایئرپورٹس پر موجود امیگریشن حکام اور ایئر لائنز بشمول پی آئی اے، سعودی ایئر لائن، ایئر بلو اور ایئر سیال کو ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ وہ کسی بھی کم عمر عازم کو حج پروازوں میں سوار نہ ہونے دیں.
اس سلسلے میں سعودی حکومت اور پاکستانی حج مشن نے ان عازمین کے لیے ریفنڈ پالیسی کا بھی اعلان کیا تھا۔
مراسلے میں واضح کیا گیا تھا کہ عمر کی اس اچانک پابندی سے متاثر ہونے والے عازمین یا ان کے گروپ ممبران، جو اس وجہ سے سفر نہیں کر سکیں گے، اپنا حج سفر منسوخ کروا سکتے ہیں ۔
سعودی حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ متاثرہ عازمین کو ان کی جمع کرائی گئی مکمل رقم واپس (Full Refund) کی جائے گی ۔ ڈائریکٹر حج اور ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں اس معاملے کو انتہائی اہم اور فوری قرار دیا گیا تھا۔
حج آرگنائزرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (HOAP) کو بھی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ فوری طور پر تمام نجی حج آپریٹرز اور عازمین کو اس فیصلے سے آگاہ کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے ۔