مشرق وسطیٰ ایک بار پھر اُس موڑ پر کھڑا ہے جہاں طاقت، سفارت، معیشت اور عسکری حکمت عملی ایک دوسرے میں اس طرح گتھم گتھا ہوچکی ہیں کہ کسی ایک فریق کی معمولی لغزش بھی پورے خطے کو ایسی آگ میں دھکیل سکتی ہے جس کے شعلے خلیج فارس سے نکل کر عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست کے ایوانوں تک پھیل جائیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب محض دو ریاستوں کا تنازع نہیں رہی بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے باہمی تصادم، اسرائیلی سلامتی کے تصور، خلیجی ریاستوں کے خوف، چین و روس کی تزویراتی ترجیحات اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ سے جڑی ہوئی ایک پیچیدہ الجھن بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کو ’’وینٹی لیٹر پر موجود معاہدہ‘‘ قرار دینا ،دراصل ایک ایسے بحران کی علامت ہے جو سفارتی بیانات سے کہیں آگے جاچکا ہے۔ زبان کی سختی، دھمکیوں کی شدت اور عسکری تیاریوں کے اشارے یہ بتا رہے ہیں کہ خطہ ایک بار پھر غیر یقینی کے اندھیروں میں داخل ہورہا ہے۔
امریکی صدر کے بیانات میں بیک وقت غصہ، مایوسی اور دباؤ کی سیاست جھلکتی ہے۔ وہ ایران کو ناقابل اعتماد قرار دے رہے ہیں، کردوں سے ناراضی کا اظہار کررہے ہیں، آبنائے ہرمز میں بحری آپریشن بحال کرنے پر غور کررہے ہیں اور ساتھ ہی مکمل فتح کی بات بھی کرتے ہیں۔
یہ تمام عناصر دراصل اُس امریکی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس میں طاقت کے اظہار کے ذریعے مذاکراتی برتری حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایران وہ ریاست ہے جسے صرف دھمکیوں کے ذریعے جھکایا جاسکتا ہے؟ گزشتہ دو دہائیوں کی تاریخ اس تصور کی نفی کرتی ہے۔ عراق، افغانستان، شام اور یمن کے تجربات نے یہ ثابت کردیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عسکری مداخلتیں وقتی کامیابیاں تو دے سکتی ہیں لیکن پائیدار استحکام پیدا نہیں کرسکتیں۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ امریکی داخلی سیاست اس بحران پر گہرے اثرات مرتب کررہی ہے۔
ٹرمپ ہمیشہ سے طاقتور امریکی صدر کے تاثر کو اپنی سیاست کا بنیادی ستون بناتے رہے ہیں۔ ان کی سیاسی نفسیات یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ کسی بھی مذاکراتی تعطل کو کمزوری کے طور پر ظاہر نہ ہونے دیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران امریکی مطالبات کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے تو واشنگٹن میں فوجی آپشن دوبارہ سنجیدگی سے زیر غور آنے لگتا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق محدود فضائی کارروائیوں، بحری نگرانی اور حتیٰ کہ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر کے خلاف خصوصی آپریشن جیسے امکانات پر غور کیا جارہا ہے۔
بظاہر یہ سب’’ محدود دباؤ‘‘کے حربے ہیں، مگر مشرق وسطیٰ کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہاں محدود جنگیں اکثر غیر محدود بحرانوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ آبنائے ہرمز کا معاملہ اس تنازع کو مزید خطرناک بنادیتا ہے۔ دنیا کی توانائی رسد کا ایک بڑا حصہ اس سمندری گزرگاہ سے وابستہ ہے، اگر امریکا دوبارہ وہاں بحری تحفظ کے نام پر عسکری موجودگی بڑھاتا ہے تو ایران اسے اپنے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش سمجھے گا۔ نتیجتاً خلیج میں کشیدگی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں پہلے ہی سیاسی بے یقینی سے متاثر رہتی ہیں، اگر ہرمز میں عسکری تصادم کا خطرہ بڑھا تو صرف خطے کے ممالک ہی نہیں بلکہ یورپ، ایشیا اور افریقا کی معیشتیں بھی اس کے اثرات محسوس کریں گی۔ چین، جو ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے، اس صورتحال کو محض علاقائی مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ اپنی اقتصادی سلامتی سے جڑا معاملہ تصور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے سفیر کی جانب سے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بڑی طاقتوں کی ضمانت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توثیق کا مطالبہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ تہران جانتا ہے کہ یکطرفہ امریکی یقین دہانیاں مستقل نہیں ہوتیں۔ جوہری معاہدے سے امریکی انخلا نے ایران کے اعتماد کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔
ایران کے اندرونی سیاسی بیانیے کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ ایرانی قیادت کے مختلف حلقے اگرچہ اندازِ گفتگو میں مختلف دکھائی دیتے ہیں، مگر قومی خودمختاری کے سوال پر ان کے درمیان بنیادی اتفاق موجود ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نسبتاً معتدل زبان استعمال کرتے ہیں اور معاہدے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، لیکن وہ بھی واضح کرتے ہیں کہ سپریم لیڈر کے تحفظات اور قومی مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران کے اندر طاقت کا اصل مرکز اب بھی وہی نظریاتی ڈھانچہ ہے جو مغربی دباؤ کے سامنے پسپائی کو قومی شکست سمجھتا ہے۔ دوسری جانب پارلیمانی حلقوں سے 90 فیصد یورینیم افزودگی کا عندیہ دراصل ایک نفسیاتی پیغام ہے۔
ایران یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اگر اس پر عسکری یا سیاسی دباؤ بڑھایا گیا تو وہ جوہری پروگرام کو مزید آگے لے جانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ مغربی دنیا کے لیے یہ سب سے تشویش ناک پہلو ہے، کیونکہ 90 فیصد افزودگی کو ہتھیار سازی کے قریب ترین مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔یہاں اسرائیل کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔ تل ابیب کی کوشش رہی ہے کہ امریکا ایران کے خلاف زیادہ جارحانہ حکمت عملی اختیار کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حلقے ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر کے خلاف اسپیشل فورسز آپریشن کی حمایت کررہے ہیں، مگر واشنگٹن اس معاملے میں محتاط دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ایسی کارروائی پورے خطے میں وسیع جنگ کو جنم دے سکتی ہے۔
لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی، عراق و شام میں ایران نواز ملیشیائیں۔یہ سب ایسے عناصر ہیں جو کسی بھی محدود کارروائی کو فوری طور پر علاقائی جنگ میں بدل سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے ممکنہ دورہ چین کا اس بحران سے جڑ جانا بھی اہم اشارہ ہے۔ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ چین کو نظرانداز کرکے ایران کے مسئلے کا مکمل حل ممکن نہیں۔ چین نہ صرف ایران کا معاشی شراکت دار ہے بلکہ عالمی طاقت کے طور پر اس کی حیثیت مسلسل بڑھ رہی ہے، اگر بیجنگ ایران کی حمایت میں زیادہ فعال کردار ادا کرتا ہے تو امریکی دباؤ کی تاثیر کم ہوسکتی ہے۔ اسی لیے واشنگٹن ایک طرف ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے اور دوسری طرف چین کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر مفاہمت کی راہیں بھی تلاش کررہا ہے۔
یہ صورتحال دراصل نئی عالمی صف بندیوں کی عکاس ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ صرف تیل کا خطہ نہیں رہا بلکہ عالمی طاقتوں کی اسٹرٹیجک مسابقت کا میدان بن چکا ہے۔ایرانی قیادت بار بار’’ جائز حقوق‘‘کی بات کرتی ہے۔ یہ اصطلاح محض سفارتی جملہ نہیں بلکہ ایرانی بیانیے کا بنیادی نکتہ ہے۔ تہران کا موقف یہ ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی اس کا قانونی حق ہے اور مغرب اسے سائنسی ترقی سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔ مغربی دنیا اس استدلال کو مکمل طور پر قبول نہیں کرتی کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ ایران جوہری صلاحیت حاصل کرکے پورے خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جس نے گزشتہ کئی برسوں سے ہر مذاکراتی کوشش کو غیر یقینی بنائے رکھا ہے۔اس بحران کا ایک پہلو عالمی اداروں کی کمزوری بھی ہے۔
اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی جیسے ادارے موجود ہونے کے باوجود دنیا اب بھی طاقت کی سیاست کے رحم و کرم پر ہے، اگر واقعی عالمی نظام مؤثر ہوتا تو ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد سازی کے ایسے مستقل میکانزم موجود ہوتے جو ہر نئے سیاسی بحران کے ساتھ ٹوٹتے نہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی ادارے اکثر بڑی طاقتوں کے مفادات کے تابع دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کسی بھی نئے معاہدے کے لیے بین الاقوامی ضمانتوں پر زور دے رہا ہے۔اس پورے منظرنامے میں سب سے بڑا خطرہ غلط اندازوں کا ہے۔
جنگیں اکثر وہاں شروع ہوتی ہیں جہاں فریقین ایک دوسرے کی نیت یا صلاحیت کا غلط اندازہ لگالیتے ہیں، اگر امریکا یہ سمجھتا ہے کہ محدود فضائی حملے ایران کو جھکادیں گے تو یہ ایک خطرناک خوش فہمی ہوسکتی ہے۔ اسی طرح اگر ایران یہ خیال کرتا ہے کہ وہ صرف مزاحمتی بیانیے کے ذریعے عالمی دباؤ کو ہمیشہ کے لیے روک سکتا ہے تو یہ بھی حقیقت پسندانہ نہیں۔ طاقت کا توازن، معیشت کی کمزوری، داخلی سیاسی دباؤ اور عالمی سفارت کاری۔یہ سب عوامل کسی بھی ریاست کے فیصلوں کو محدود کرتے ہیں۔
دنیا اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف سفارت کاری کی کمزور مگر موجود راہ ہے اور دوسری طرف تصادم کی تاریک وادی، اگر دانش مندی غالب رہی تو شاید کوئی نیا معاہدہ، کوئی نئی یقین دہانی یا کوئی عبوری مفاہمت کشیدگی کو کم کردے، لیکن اگر طاقت کے نشے، داخلی سیاسی مفادات اور علاقائی رقابتوں نے فیصلہ سازی پر غلبہ پالیا تو مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے بحران میں داخل ہوسکتا ہے جس کے اثرات کئی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں دنیا کو محض عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، سفارتی تحمل اور تاریخی شعور کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جنگیں شروع کرنا آسان ہوتا ہے، مگر ان کے انجام پر کسی کا اختیار نہیں رہتا۔