اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت سے متعلق متنازع اور امتیازی قانون نافذ کر دیا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایوی بلوتھ نے اس قانون کے نفاذ کے لیے ضروری فوجی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ قانون باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے وہ فلسطینی جنہیں اسرائیلی شہریوں کے قتل کے الزام میں سزا سنائی جائے گی، انہیں لازمی طور پر سزائے موت دی جا سکے گی اور عدالت کے پاس متبادل سزا دینے کے اختیارات محدود ہوں گے۔ صرف غیر معمولی حالات میں ہی عدالت عمر قید کی سزا سنا سکے گی۔
رپورٹس کے مطابق اس قانون کی منظوری رواں سال مارچ کے آخر میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے دی تھی، جس کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فوجی قیادت سے اس کے نفاذ کے لیے باضابطہ حکم نامہ جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔
اس قانون کی سب سے زیادہ متنازع شق یہ ہے کہ یہ صرف فلسطینیوں پر لاگو ہوگا جبکہ اسرائیلی شہری یا اسرائیل میں رہائش پذیر افراد اس کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے۔ فلسطینیوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں جبکہ اسرائیلی شہریوں کے مقدمات سویلین عدالتوں میں سنے جاتے ہیں۔
فلسطینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو نسلی امتیاز اور دوہرا قانونی نظام قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون مقبوضہ علاقوں میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔