ایران جنگ سے امریکا کے میزائل ذخائر میں کمی، پینٹاگون نے 10 ہزار میزائل خرید لیے

رپورٹس کے مطابق امریکا اب کم لاگت اور تیزی سے تیار ہونے والے جدید میزائل سسٹمز پر زیادہ انحصار بڑھا رہا ہے


ویب ڈیسک May 19, 2026

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے بعد اپنے میزائل ذخائر کو مضبوط بنانے کیلئے 10 ہزار کم لاگت میزائل خریدنے کے معاہدے کرلیے گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق پینٹاگون کا یہ فیصلہ ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور انہیں بحال کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق مختلف دفاعی کمپنیوں کے ساتھ لو کاسٹ کنٹینرائزڈ میزائلز پروگرام کے تحت معاہدے کیے گئے ہیں۔

محکمہ دفاع کے مطابق پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں جون سے ان کمپنیوں سے آزمائشی میزائل حاصل کیے جائیں گے تاکہ ان کی کارکردگی اور صلاحیت کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس کے علاوہ کاسٹیلین کے ساتھ ایک الگ معاہدہ بھی کیا گیا ہے جس کے تحت امریکا ہر سال کم از کم 500 بلیک بیئرڈ ہائپرسونک میزائل حاصل کرے گا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا اپنی عسکری تیاریوں کو تیز کرنے اور مستقبل کے ممکنہ تنازعات کیلئے دفاعی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔

گزشتہ ماہ ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکا کو اپنے میزائل ذخائر جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں چار سال تک لگ سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اب کم لاگت اور تیزی سے تیار ہونے والے جدید میزائل سسٹمز پر زیادہ انحصار بڑھا رہا ہے تاکہ طویل جنگی صورتحال میں دفاعی ضروریات پوری کی جا سکیں۔