اجتماعی قربانی۔۔۔ نوجوانوں کے لیے نئی تربیت گاہ

قربانی ایک مذہبی فریضہ ہی نہیں ہے بلکہ گاؤں محلے کے لوگوں کے لیے ایک سماجی یونیورسٹی کا درجہ بھی رکھتی ہے۔



قربانی ایک مذہبی فریضہ ہی نہیں ہے بلکہ گاؤں محلے کے لوگوں کے لیے ایک سماجی یونیورسٹی کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ بیس پچیس سال قبل تک ایک گائے کی خریداری کے لیے تمام شریک چاہے ان کی تعداد تین ہو یا چار ہوں ساتھ خاندان کے دیگر افراد یا محلے میں سے یا پڑوسی مل کر ان کی تعداد کبھی سات کبھی دس تک بھی پہنچ جاتی ہے۔

منظر کچھ یوں ہوتا تھا پچھلی صدی میں تو اکثر علاقوں میں ٹانگے بھی پائے جاتے تھے تو کچھ لوگ ٹانگے پر سوار کچھ سائیکلوں میں دو، دو افراد بیٹھ کر نزدیکی یا علاقے کی بکرا پیڑی بکرا منڈی یا گائے منڈی پہنچ جاتے۔ 4 گھنٹے یا 8 گھنٹے تک تلاش کے بعد کسی گائے، بیل، بچھڑے کا سودا ہو جاتا۔ جانور کے گلے میں رسی باندھ کر ہر شخص اچھی طرح تسلی کر رہا ہوتا، دو دانت، چار دانت چیک کیے جاتے، قیمت کی ادائیگی کے بعد کچھ نوجوان تیار ہو جاتے اور اسے پیدل گھر تک پہنچانے کی ذمے داری لے لی جاتی۔ آج کل تو ٹرک، سوزوکی پر لاد کر ہزاروں روپے بہ طور کرایہ ادا کرکے گائے، بیل، اونٹ کو گھر لے کر جاتے ہیں۔

پہلے تو رات بھر لڑکے بالے جانور کی ناک میں نکیل ڈالے پیدل لیے جا رہے ہوتے تھے۔ عجیب منظر ہوتا تھا، بیل ہو یا بچھڑا دیکھنے کے قابل ہوتا۔ نوجوان بڑے پیار سے اس کی پیٹھ کو سہلاتے ہوئے لیے چلے جاتے تھے اور وہ جانور بھی نئے مالکوں کے ساتھ بڑی خوشی خوشی ہنستے مسکراتے اپنے نئے گھر کی طرف رواں دواں ہوتا۔

بہرحال جب گائے، بیل، اونٹ اپنی مقررہ جگہ پر پہنچتا تو اس کی آؤ بھگت کے مراحل طے کیے جاتے۔ کوئی لڑکا ہار لا کر اس کے گلے میں ڈال رہا ہے، کوئی اس کے گلے پر ہاتھ پھیر رہا ہے، کوئی چارہ لے کر آ رہا ہے، کوئی پانی پلا رہا ہے۔ چھوٹے بچے دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں، جانور بھی پیار بھری نظر سے احساس تشکر کے ساتھ سر ہلا رہا ہے۔

اس کی خاطرداری کے بعد اسے ٹہلانے کا پروگرام ترتیب پاتا ہے۔ پہلے اس کا نام رکھ دیا جاتا۔ اہل محلہ کے ساتھ اس کے نام کے ساتھ اس کا تعارف کرایا جاتا۔ کتنے میں سودا ہوا، تفصیلات بتائی جاتیں۔ اب یہ دیکھیں کہ ایک جانور اس کے تین چار یا پانچ حصہ دار۔ نوجوانوں، بچوں کی بھرپور شرکت۔ چارہ ڈالنے، شام کو سیر کرانے، ٹہلانے اور دیگر امور کے باعث اس جانور کے ساتھ بھرپور وابستگی ہو جاتی اور جانور بھی ان کو دیکھ دیکھ کر نہال ہو جاتا کہ اتنے میرے چاہنے والے، اتنے خدمت گزار، اتنے افراد دور نزدیک سے آ آ کر مجھے دیکھ رہے ہیں اور آج کل با امر خصوصی اجتماعی قربانی کے نام سے کچھ ادارے مقررہ رقم لے کر گائے، بیل، بچھڑا، اونٹ لا کر باڑے، قریبی میدان یا مسجد و مدرسہ سے متصل خالی پلاٹ میں باندھ دیتے ہیں اور ایک یا دو افراد کے ذمہ لگا دیا۔ ان کا معاوضہ طے کر لیا، اب وہ چارہ ڈال رہے ہوتے ہیں۔

اب وہ فوراً تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے، کوئی اسے دیکھنے نہیں آ رہا، حصہ داروں کا صرف اتنا سا تعلق رہ جاتا ہے کہ ان کے حصے کا گوشت ان کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ فریضہ تو ادا ہو جاتا ہے مگر قربانی کرنے کی جو سماجی روح ہے وہ کہیں پیچھے رہ جاتی ہے جو آپس میں معاشرتی روابط پیدا ہو سکتے تھے وہ اب ناپید ہو کر رہ گئے ہیں۔ پہلے اجتماعی قربانی کے بجائے اہل محلہ کے آپس کے حصہ دار جس طرح جانور اپنی پسند کا خرید کر لاتے اس سے محلے میں تعلق اور اعتماد پیدا ہوتا تھا۔ بچوں میں جانوروں سے محبت اور خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا تھا۔ نوجوان مل جل کر کام کرنا سیکھتے تھے۔

امیر اور متوسط طبقہ ایک دستر خوان پر آ جاتا تھا، رشتے داروں اور پڑوسیوں کے درمیان آمد و رفت بڑھتی تھی۔ قربانی محض عبادت نہیں اجتماعی تربیت بن جاتی ہے۔ آج بھی یہ نوجوانوں کی تربیت کا ذریعہ بن سکتی ہے دیگر اداروں کی بات نہیں کر رہا۔ ان مساجد کی بات کر رہا ہوں جہاں پر امام مسجد اور ان کے نائبین یہ خدمت انجام دے رہے ہوں۔ دور دراز کے علاقوں میں سخت گرمی یا سردی یا بارش کے موسم میں جا کر نسبتاً سستے جانور خرید کر لے آتے ہیں جب ہر جانور کے شراکت دار مقرر ہو جائیں تو امام مسجد نوجوانوں کی اس طرح تربیت فرما سکتے ہیں کہ ان کو جانور کی خدمت کا موقع دیں، شام کے دھندلکے میں وہ جانور کو ٹہلانے لے کر جائیں، مسجد کے سائے میں ہونے والے اجتماعی قربانی کے ذریعے نوجوانوں میں ذمے داری خدمت کا جذبہ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے دل بھی مسجد کے ساتھ جڑ سکتے ہیں۔

اگر اس موقع پر امام صاحب یا مہتمم صاحب نوجوانوں کو اپنے اپنے جانوروں کے لیے وقت نکالنے کی ترغیب ان کی خدمت کرنے کی ترکیب یہ سب باتیں اگر سمجھائیں تو اس سے نوجوان مسجد کی طرف آنے کے ساتھ ساتھ فضول ادھر ادھر گھومتے پھرتے، وقت ضایع کرتے، آپس میں روابط بڑھاتے اور دل میں امام صاحب کی عزت لیے پانچوں وقت مسجد میں آنے کی محبت لیے، نماز کو وقت پر ادا کرنے کی ذمے داری بہ خوبی نبھانے لگے گا اور قربانی کی روح بھی یہی ہے کہ بندے کا تعلق اللہ سے زیادہ سے زیادہ مضبوط سے مضبوط تر ہو کر رہے۔ اب چونکہ اجتماعی قربانی کا رواج ہو چلا ہے لیکن نوجوانوں کے لیے تربیت کا موقع اب بھی بدستور موجود ہے۔